وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کے خبرنامے سے شہرت حاصل کرنے والی نیوز اینکر اور براڈکاسٹر عشرت فاطمہ کو پی ٹی وی میں ملازمت کی پیشکش کی ہے۔
جمعرات کی رات کو وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق عطا اللہ تارڑ سینیئر براڈ کاسٹر عشرت فاطمہ کے گھر گئے۔
انہوں نے کہا کہ عشرت فاطمہ کی نیوز کاسٹنگ اور براڈکاسٹنگ سروسز کے حوالے سے ایک پہچان ہے۔ انہوں نے اپنے 45 سالہ کیریئر میں ملک کے لیے خدمات سر انجام دیں۔
مزید پڑھیں
-
پاکستان میں بدھ 14 جنوری کو سونے کی قیمت کیا رہی؟Node ID: 899445
’پاکستان کا بچہ بچہ ان کو جانتا ہے۔ عشرت فاطمہ پاکستان ٹیلی ویژن کی پہچان ہیں، ان سے درخواست کی ہے کہ بطور مینٹور پاکستان ٹیلی ویژن آئیں۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ عشرت فاطمہ نے ہمیشہ پیشہ ورانہ انداز سے کام کیا، ان کا کبھی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا۔
اس موقع پر عشرت فاطمہ کا کہنا تھا کہ وزیر اطلاعات کی جانب سے عزت افزائی کی مشکور ہوں، حوصلہ افزائی اور محبت کا اظہار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
خیال رہے کہ عشرت فاطمہ کا ریڈیو پاکستان کے ساتھ 45 سالہ طویل سفر کا اختتام ہو گیا ہے۔
انہوں نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ریڈیو پاکستان میں اپنے آخری خبرنامے کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ریڈیو پاکستان سے راہیں جدا کر رہی ہیں۔
’سامعین و ناظرین، ریڈیو پاکستان کے ساتھ میں اپنی 45 سالہ رفاقت کو خداحافظ کہہ رہی ہوں، آپ سے رخصت لینے سے پہلے میں آپ کا اور ریڈیو پاکستان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔‘
بعد ازاں عشرت فاطمہ نے 13 منٹ طویل ایک ویڈیو میں اپنے کیریئر کے حوالے سے تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ ’کل میں نے آپ سے یہ بات شیئر کی تھی کہ میں ایک مشکل فیصلہ کرنے جا رہی ہوں، اور میری خواہش تھی کہ آپ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ میرے اس فیصلے میں میرے لیے بھلائی، آسانی اور بہتری رکھے۔ کیونکہ میں ذہنی طور پر بہت زیادہ پریشان تھی۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ ’میرا خبریں پڑھنے کا سفر سنہ1984 میں شروع ہوا، اور 1983 سے میرا تعلق ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے رہا ہے۔ خبریں میرا سب سے بڑا شوق تھیں۔ بلکہ جتنا عرصہ میں نے اس شعبے میں کام کیا، وہ پینتالیس سال بنتے ہیں اور میں نے ہمیشہ خبریں ہی پڑھی ہیں۔‘
انہوں نے ہمیشہ اپنا کام جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ’خبریں پڑھنا میرے لیے صرف ایک کام نہیں تھا، یہ ایک فن تھا، ایک جذبہ تھا، ایک دیوانگی تھی، ایک عشق تھا، ایک جنون تھا اور آج بھی ہے۔ میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ جب تک میری آواز میرا ساتھ دے، جب تک سانس باقی ہے، جب تک میرا چہرہ اس قابل ہے کہ آپ اسے دیکھ کر خوش ہوں، تب تک میں خبریں ضرور پڑھوں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’نہ میری سانس رکی ہے، نہ نظر کمزور ہوئی ہے، نہ تلفظ خراب ہوا ہے۔ میں کام پر وقت پر پہنچتی ہوں، اپنے کام سے محبت کرتی ہوں اور ہمیشہ اپنے کام سے انصاف کرنے کی کوشش کی ہے۔‘
Last day on Radio Pakistan
App sab ke pyar ka shukria mere social media (YouTube, Instagram, X, threads , Facebook) peh connect rahaiye ga agay ke safar ke liye pic.twitter.com/gEguA3m0lc— Ishrat Fatima (@OfficialIshrat) January 13, 2026












