یمن کو امداد فراہم کرنے میں سعودی عرب سرفہرست

یمن میں ہونے والی جنگ دنیا کا بدترین انسانی بحران ہے(فوٹو عرب نیوز)
 سعودی عرب کو یمن میں انسانی بنیادوں پر زندگی بچانے والی امداد فراہم کرنے والے فنڈ میں دنیا کا سب سے بڑا ملک قرار دیا گیا ہے۔
عرب نیوزکے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے کوآرڈینیشن آف ہیومینٹرین افیئرز (او سی ایچ اے) کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت 2019 میں یمن میں انسانی امداد کے منصوبے (ہیومینٹرین رسپانس پلان وائی ایچ آر پی) کی سب سے بڑی حمایتی رہی اور اس امداد کا تخمینہ 4.19 بلین ڈالرز لگایا گیا ہے۔

 یمن میں صورت حالت سے نمٹنے کے لیے 71 ملین ڈالر کی ضرورت۔ (فوٹو عرب نیوز)

سعودی عرب کی کل امداد 968.4 ملین ڈالر تھی جو وائی ایچ آر پی کے تحت دی جانے والی امداد کا 28 فیصد ہے جبکہ امریکہ 907.6 ملین ڈالر (جو وائی ایچ آر پی کا 26 فیصد ہے) کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
او سی ایچ اے کا مقصد یمن میں جاری بگڑی ہوئی انسانی صورت حالت سے نمٹنے کے لیے مزید 71 ملین ڈالر کی رقم اکھٹی کرنا ہے۔

سعودی عرب کی کل امداد 968.4 ملین ڈالر تھی (فوٹو عرب نیوز)

سعودی پریس ایجنسی نے گزشتہ روز خبر دی تھی کہ وائی ایچ آر پی فوڈ سیکیورٹی، زراعت، صحت، پانی اور حفظانِ صحت، صفائی، غذا، پناہ گاہوں اور تعلیم جیسے شعبوں میں امداد کرتا ہے۔
وائی ایچ پی پائیدار بحالی کے ساتھ ساتھ، انسانی بنیادوں پر یمن کے عوام کی تکالیف کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا وہ ادارہ ہے جسے مشکل میں مدد کے لیے پکارا جاتا ہے۔

او سی ایچ اے کا مقصد یمن میں بگڑتی صورت حالت سے نمٹنا ہے (فوٹو عرب نیوز)

اقوام متحدہ نے عرب دنیا کے غریب ترین ملک یمن میں ہونے والی جنگ کو دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دیا ہے جس میں 22 ملین افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

 

  • خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 

شیئر: