ریاض سیزن کی رنگا رنگ اختتامی تقریب، خاص کیا؟

ر یاض سیزن کے لیے دو لاکھ سے زیادہ سیاحتی ویزے جاری کیے گئے۔ فوٹو: عرب نیوز
ریاض سیزن چار ماہ بعد رنگا رنگ تقریب کے ساتھ جمعے کو اختتام پذیر ہوگیا۔ 12ملین شائقین نے شرکت کی۔
 سیزن کے دوران ایک ارب ریال آمدن ہوئی ، 52 ہزار کو روزگار ملا۔ مختلف ممالک کے سو فنکار پروگراموں میں شریک ہوئے۔ 
عاجل ویب سائٹ کے مطابق محکمہ تفریحات نے ریاض سیزن کا انتظام کیا۔ اختتامی تقریب ’لیلی ارض الخیال‘ کے عنوان سے کنگ فہد انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں منعقد کی گئی۔ 

اختتامی تقریب ’لیلی ارض الخیال‘ کے عنوان سے منعقد کی گئی۔  فوٹو: عرب نیوز

تقریب کا عنوان سعودی بچی نورة العبید سے منسوب تھا جسے لیلی کا فرضی نام دیا گیا۔ نورة العبیدنے حیران کن شو پیش کیا۔ اسے بدلے ہوئے ماحول میں زندگی گزارنے والی سعودی نسلوں کے علامتی نام کی حیثیت حاصل ہوگئی۔
ریاض سیزن میں سو سے زیادہ رنگا رنگ پروگرام ہوئے۔ 14ملین مربع میٹر کے رقبے پر 12مقامات پر پروگرام کیے گئے۔ 280 سعودی کمپنیاں شریک ہوئیں۔ 
محکمہ تفریحات کے سربراہ ترکی آل الشیخ کے مطابق’ ریاض سیزن سے براہ راست 35 ہزار سے زیادہ اور بالواسطہ 17 ہزار افراد کو روزگار ملا جبکہ آمدنی ایک ارب ریال سے زیادہ کی ہوئی ہے‘۔

ریاض سیزن میں 12ملین شائقین نے شرکت کی۔فوٹو: عاجل

محکمہ تفریحات کے ایگزیکٹیو چیئرمین فیصل بافرض نے بتایا ’ ریاض سیزن نے ہر سطح پر حیران کن نتائج حاصل کیے۔ آمدنی، اخراجات ، داخلی اور شائقین کی تعداد نے ریکارڈ قائم کیے‘۔
واضح رہے کہ ر یاض سیزن کے لیے دو لاکھ سے زیادہ سیاحتی ویزے جاری کیے گئے۔ ویزوں کا اجرا 15 اکتوبر سے 15 دسمبر تک جاری رہا۔ واضح رہے کہ ریاض سیزن 15 اکتوبرسے 15 دسمبر تک کے لیے شروع کیا گیا تھا بعد ازاں اس میں توسیع کی گئی۔ 

شیئر: