Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’انسانی خدمات کا تسلسل‘، تنزانیہ کی باہم جڑی بہنیں آپریشن کے لیے ریاض پہنچ گئیں

تنزانیہ کی باہم جڑی ہوئی بہنیں ’نینسی‘ اور ’نائس‘ منگل کو اپنے والدین کے ہمراہ ریاض پہنچ گئیں۔
ایس پی اے کے مطابق باہم جڑی ہوئی بہنوں کو طبی معائنے اور انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنے کے آپریشن کے لیے کنگ عبداللہ سپیشلسٹ چلڈرنز ہسپتال منتقل کیا گیا۔
شاہ سلمان مرکز کے نگران اعلیٰ اور طبی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے کہا یہ اقدام مملکت کی انسانی اقدار کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے جڑے ہوئے بچوں کو علیحدہ کرنے کے پروگرام کی مسلسل سپورٹ پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ 
جڑواں بچیوں کے والدین نے ٓآپریشن کے لیے احکامات جاری کرنے اور فراخدلانہ مہمان نوازی پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
یاد رہے گزشتہ روز سعودی قیادت کی ہدایات پر فلپائن کی باہم جڑی ہوئی بچیاں ’اولیویا‘ اور ’گیانا‘ اہل خانہ کے ہمراہ منیلا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ریاض پہنچی تھیں۔
مملکت کے فلیگ شپ پروگرام کے تحت ریاض کے ہسپتال میں آپریشن کیا جائے گا۔

 سعودی عرب باہم جڑے بچوں کو الگ کرنے کے سب سے زیادہ آپریشن کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ سعودی عرب کی ان کاوشوں کا اعتراف دنیا بھر کے ممالک اور تنظیمیں کر رہی ہیں۔ 
1990 سے اب تک اس طرح کے کامیاب آپریشنوں میں سعودی عرب نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
35 برسوں کے دوران سعودی عرب میں 28 ممالک کے 67 باہم جڑے ہوئے بچوں کو آپریشن کے ذریعے علیحدہ کیا جا چکا ہے۔

 

شیئر: