Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آئس سے ہلاکتیں: حل کسی کے پاس نہیں؟

کرسٹل آئس فوری موت کا سبب بنتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
لاہور کے رہائشی احسن عارف کو اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس بار جب وہ دبئی سے پاکستان چھٹیاں گزارنے آئیں گے تو پھر کبھی دوبارہ دبئی نہیں جا سکیں گے۔
دبئی پلٹ 28 سالہ احسن عارف کی رواں ماہ کی ایک رات اپنے دوستوں کے ہمراہ ایک گھر پر ڈانس پارٹی کے دوران اچانک حالت غیر ہو گئی، انہیں ہسپتال لایا گیا جہاں ان کی موت واقع ہو گئی۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد ان کے تین دوستوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق ’اس پارٹی میں یہ لوگ آئس کا نشہ کر رہے تھے اور حراست میں موجود دیگر نوجوانوں نے اس کی تصدیق بھی کی ہے۔ اور جس شخص سے انہوں نے آئس خریدی تھی اس کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔‘

 

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق احسن کو ہارٹ اٹیک آیا جبکہ ان کی مکمل کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔ اس حوالے سے نمونے پنجاب فرانزک لیب بھیج دیے گئے ہیں۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ لاہور میں کسی نوجوان کی ہلاکت ہوئی ہو اور اسے کرسٹل آئس سے نہ جوڑا گیا ہو۔ گزشتہ ایک سال میں اس طرح کی قریب 13 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جن کو حکام نے کسی نہ کسی طریقے سے کرسٹل آئس کے نشے سے جوڑا ہے۔ 
کرسٹل آئس نیٹ ورک
ویسے تو شراب سمیت کسی بھی نشہ آور ڈرگ کا استعمال اور اسے بیچنے پر پاکستان میں مکمل پابندی ہے۔ لیکن اس کے باوجود زیر زمین ایسے نیٹ ورک موجود ہیں جو منشیات کی سپلائی چینز بحال رکھتے ہیں۔ کرسٹل آئس فوری موت کا سبب بنتی ہے۔
لاہور ہی کے ایک نوجوان یاسر (فرضی نام) جو کسی دور میں کرسٹل آئس نشہ کی لت میں رہے ہیں لیکن اب وہ مکمل طور پر اس سے چھٹکارا حاصل کر چکے ہیں، انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ سب نیٹ ورکنگ کے ذریعے چلتا ہے اور کرسٹل آئس گرام کے حساب سے بیچی جاتی ہے۔‘

رائے بابر سعید کے مطابق ختم ہو بھی جائیں تو نئے گروہ جنم لے لیتے ہیں۔ اور یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

لاہور پولیس کے شعبہ آپریشنز کے سربراہ ڈی آئی جی رائے بابر سعید نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مختلف طرح کے نیٹ ورکس موجود ہیں جو منشیات سپلائی کرتے ہیں اور پولیس ان نیٹ ورکس کے پیچھے ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’کئی افراد گرفتار بھی ہوئے ہیں، لیکن یہ ایک مستقل عمل ہے جسے جاری رہنا ہے۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایسے چھپے نیٹ ورکس کو یکسر ہی ختم کر دیا جائے۔ ختم ہو بھی جائیں تو نئے گروہ جنم لے لیتے ہیں۔ اور یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ میں زیادہ تفصیلات تو نہیں بتا سکتا لیکن یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ ہم نے کئی اہم گرفتاریاں کی ہیں اور مزید بھی ہوں گی۔‘
رائے بابر سعید نے بتایا کہ ابھی اس حوالے سے بہت سا تحقیقی کام ہو رہا ہے کہ ان اموات کو کرسٹل آئس سے کس حد تک جوڑا جا سکتا ہے۔ کیونکہ پوسٹ مارٹم رپورٹس میں جو وجوہات سامنے آتی ہیں اس سے یہ پتا نہیں چلتا کہ جسم کے اندر جو صورت حال پیدا ہوئی اس کا محرک کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ کے خانے میں کرسٹل آئس نہیں لکھا ہوتا بلکہ دل کا دورہ یا دوسری وجوہات لکھی ہوتی ہیں۔ البتہ کیمیائی اجزا کی رپورٹس میں منشیات کے ذرات کا پتا چلتا ہے لیکن وہ بھی وجہ موت نہیں بتا سکتی۔

نوجوان کی ہلاکت کے بعد پولیس ڈرگ بیچنے والے کی گرفتاری کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

کرسٹل آئس کیا ہے؟
چین کی شانزی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ بائیو ریسورسز کیمیکل اینڈ میٹیریل انجینرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر یاسر عرفات نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’کرسٹل آئس جسے کرسٹل میتھ بھی کہا جاتا ہے، لیبارٹری میں تیار کی گئی مصنوعی ڈرگ ہے جس کو دنیا میں کوکین کے مقابلے میں مصنوعی طور پر تیار کیا گیا ہے، اور بہرحال ہر دو صورتوں میں یہ ایک خطرناک ڈرگ ہے۔‘
سیالکوٹ میڈیکل کالج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمان شیروانی کے مطابق ’اس طرح کی ڈرگ کے استعمال سے کئی پیچیدہ صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں جیسا کہ ہائیپر ٹینسو کرائسز، وینٹریکل ٹیکی کارڈیا (ہارٹ اٹیک)، سیژر اور اسٹروک وغیرہ جو کہ موت کا سبب بنتے ہیں۔ ‘

’کسی شخص کو اس سے پہلے کوئی بیماری نہ بھی ہو تو یہی نتیجہ نکلے گا کہ ڈرگ ہی موت کی وجہ بنی۔‘ فوٹو: اے ایف پی

اس سوال کہ پوسٹ مارٹم رپورٹس اور کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹس یہ لنک ثابت کیوں نہیں کرتیں؟ کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’یہ تو سیدھی سی بات ہے کہ کوئی بھی ڈرگ جسم کے اندر جا کے کسی حصے کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ایک تندرست شخص جب اچانک موت کے منہ میں جائے گا تو پوسٹ مارٹم یہ بتائے گا کہ موت جسم کے کس حصے کے فیل ہونے کی وجہ سے ہوئی۔
ڈاکٹر سلمان شیروانی نے کہا کہ اسی طرح کیمکل ایگزامینیشن رپورٹ میں اگر کسی بھی ڈرگ کے ذرات کی معدے یا کسی بھی حصے میں نشان دہی ہو جائے، جو جسم کے اس حصے کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، تو اس شخص کو اس سے پہلے کوئی بیماری نہ بھی ہو تو یہی نتیجہ نکلے گا کہ ڈرگ ہی موت کی وجہ بنی۔

شیئر: