’جعلی جذبات: فائدے کے بجائے نقصان دہ‘

تحقیق کئی میں دو قسم کے جذبات ’سطحی اداکاری‘ اور ’گہری اداکاری‘ کا مشاہدی کیا گیا ہے۔ فوٹو: اے این آئی
اگر آپ نوکری پیشہ ہیں یا کوئی کاروبار کرتے ہیں تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ لوگ اکثر کام کے دوران جذباتی ہو جاتے ہیں، لیکن ان میں سے کچھ لوگ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کر دیتے ہیں اور کچھ لوگ اس کے اُلٹ یعنی اپنے جذبات چھپانے کی ’اداکاری‘ کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ’غصے کے باوجود منہ پر مسکراہٹ سجا کر سب اچھا ہونے کی اداکاری کرنے کے بجائے اپنے جذبات کے اظہار کو محسوس کیا جائے تو زیادہ سود مند ہو گا۔‘
امریکہ میں یونیورسٹی آف ایریزونا کی ریسرچر ایلیسن گیبرئیل کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’کام کی جگہ پر کسی مالی فائدے کے لیے مثبت اداکاری کرنا فائدہ دینے کے بجائے الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔‘
ایلیسن گیبرئیل نے اپنی تحقیق کئی میں دو قسم کے جذبات کا مشاہدہ کیا ہے اور  انہیں ’سطحی اداکاری‘ اور ’گہری اداکاری‘ کا نام دیا ہے۔
’سطحی اداکاری میں آپ لوگوں کے سامنے جن جذبات کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں وہ جعلی ہوتے ہیں۔ آپ اندر سے غصہ یا مایوسی محسوس کر رہے ہوتے ہیں لیکن ظاہری طور پر مثبت یا خوشگوار بننے کی اداکاری کرتے ہیں۔‘
’گہری اداکاری میں آپ اپنے احساسات کو اندر سے تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب آپ گہری اداکاری کر رہے ہوتے ہیں تو آپ اپنے اندر کے جذبات کو قابو میں کر کے اور لوگوں کے ساتھ میل ملاپ کو اکٹھا لے کر چلنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔‘
اس تحقیق میں زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔

ریسرچرز نے کام کے دوران مختلف جذبات کا اظہار کرنے والے افراد کی تین گیٹیگریز بنائی ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

گیبرئیل کا کہنا ہے کہ ’ہم جاننا یہ چاہتے تھے لوگ کام کے دوران اپنے ساتھیوں کے ساتھ کس طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور اگر جذبات کے اظہار کو روکنے کا کوئی قاعدہ نہیں ہے تو وہ مثبت ہونے کی اداکاری کیوں کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ انہیں جعلی جذبات کے اظہار سے کیا فائدہ ہوتا ہے۔‘
ریسرچرز نے کام کے دوران مختلف جذبات کا اظہار کرنے والے افراد کی تین گیٹیگریز بنائی ہیں۔

نہ ہونے کے برابر اداکار

یہ وہ افراد ہیں جو نظر انداز کر دینے کی حد تک سطحی یا گہری اداکاری میں ملوث ہوتے ہیں۔

نچلے درجے کے اداکار

ایسے افراد جو نان ایکٹرز کے مقابلے میں تھوڑی سی زیادہ سطحی یا گہری اداکاری کرتے ہیں۔

گہرے اداکار

یہ وہ لوگ ہیں جو بہت زیادہ گہری اداکاری کرتے ہیں یعنی ساتھی ورکرز کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے جذبات کو اندر سے تبدیل کرتے ہیں، اور بہت کم سطحی اداکاری کرتے ہیں۔
اس تحقیق میں ان افراد کی تعداد سب سے کم تھی جو نہ ہونے کے برابر اداکاری کرتے ہیں۔

’ بہت زیادہ سطحی یا گہری اداکاری کو مِکس کرنے سے جسمانی یا ذہنی تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔‘ فوٹو: اے ایف پی

محقیقن کا کہنا ہے کہ ریسرچ میں مرکزی بات یہ سامنے آئی ہے کہ ’گہرے اداکار جو اپنے ساتھی ورکرز کے ساتھ مثبت رویہ رکھتے ہیں، ایسا اس لیے کرتے ہیں تاکہ اس طرح سے انہیں کوئی فائدہ حاصل ہو سکے۔‘
تحقیق کے مطابق ان فوائد میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے مدد حاصل کرنا اور مشورہ لینا ہو سکتا ہے۔ گہرے اداکار اپنے کام کے اہداف اور ساتھیوں کا اعتماد جیتنے میں باقی گروپوں کے مقابلے میں سب سے آگے ہیں۔
ریسرچ میں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا گیا ہے کہ  بہت زیادہ سطحی یا گہری اداکاری کو مِکس کرنے سے جسمانی یا ذہنی تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
گیبرئیل کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اتنے جعلی بنو کہ اصل لگنے لگو کے حربے سے آپ وقتی طور پر کچھ فائدہ تو ضرور حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ سب لمبے عرصے تک کرتے رہنے سے آپ کی صحت اور ساتھی ورکرز کے ساتھ آپ کا رشتہ متاثر ہو سکتا ہے۔‘

شیئر: