ڈرائیور کو غنودگی سے بچانے والے چشمے

یہ چشمے ڈرائیور پر غنودگی طاری ہونے کی صورت میں اس کو خبردار کرتی ہیں۔ (فوٹو:اے ایف پی)
امریکی ریاست لاس ویگس میں کنزیومور الیکٹرونک شو 2020 میں انسانی جسم پر پہنی جانے والی سمارٹ ٹیکنالوجی کی حیران کر دینے والی ایجادات سامنے آئی ہیں۔
ان ایجادات کے ذریعے متعارف کروائے جانے والے جدید آلات انسان کی صحت کی نہ صرف نگرانی کرتے ہیں بلکہ ان آلات کی مدد سے روزمرہ کے امور پر بھی نظر رکھی جا سکتی ہے۔
سمارٹ ٹیکنالوجی کے حامل یہ آلات آن لائن خریداری کے لیے انٹرنیٹ پر آسانی سے دستیاب ہیں۔  
فرانسیسی ادارے ایلسی ہیلتھی نے کنزیومور الیکٹرونک شو 2020 میں ایسے چشمے متعارف کروائے ہیں جو کسی بھی ڈرائیور پر غنودگی طاری ہونے کی صورت میں اس کو خبردار کرتے ہیں۔
ایلسی ہیلتھی کے بزنس مینیجر تھیو نیکتابے کے مطابق ’یہ چشمے زندگیاں بچا سکتے ہیں اور ان سے حادثات بھی کم ہوں گے۔‘
غنودگی کی صورت میں الرٹ کرنے والے چشمے ٹرک ڈرائیوروں کے لیے زیادہ مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ عام سے چشموں جیسے ہیں اور عمر رسیدہ افراد بھی ان کا استعمال کر سکیں گے۔
اسی طرح امریکہ کے ایک ادارے ناربس نے ایک ایسا چشمہ متعارف کروایا ہے جس سے دماغ کی ورزش ہوتی ہے۔
یہ چشمہ ان لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو کسی کام پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پاتے۔
ناربس کے ایک منتظم جے آرکیٹا کہتے ہیں کہ ’آپ اس کو دن میں 20 سے 30 منٹ تک استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سے آپ کا دماغ اس قابل ہو جاتا ہے کہ کسی خاص کام پر آپ کی توجہ بہتر طریقے سے مرکوز ہو جاتی ہے۔‘

سمارٹ چشمے ان لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں جو اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پاتے (فوٹو:اے ایف پی)

باچ کمپنی اس کنزیومر الیکٹرونک شو میں ایسے چشمے لائی جو سمارٹ واچ کی طرح نوٹیفیکیشن دیتے ہیں اور چشموں کی کمپنی ووزکس نے ایسے چشمے متعارف کروائے جو سویمنگ کے دوران یہ جاننے میں مدد دیتے ہیں کہ پانی کے نیچے کیا ہے۔
اس کے علاوہ اس شو میں سماعت کے لیے ایسے آلات کی بھی نمائش کی گئی جو نہ صرف میوزک سننے اور بات چیت کے لیے استعمال کیے جا سکتے بلکہ صارفین کو صحت کی بہتری میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔
ویورلی لیب نے ایک ایسا آلہ سماعت متعارف کروایا ہے جو 20 زبانوں میں ترجمہ کر سکتا ہے۔
کینڈین سٹارٹ اپ میانٹ ایسی زیر جامہ ٹیکنالوجی لائی ہے جس کو استعمال کرنے سے دل کی دھڑکن، جسمانی حرکت، نیند اور خراب صحت سے متعلق دیگر علامات کو ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

کنزیومور الیکٹرونک شو میں جدید روبوٹس اور دیگر سامان بھی رکھا گیا ہے (فوٹو:اے ایف پی)

جنوبی کوریا کے ایک ادارے نے بوڑھوں کے چلنے پھرنے کی نگرانی کرنے کے لیے ایک بیلٹ بنایا ہے، یہ بیلٹ 400 ڈالرز کا ہے اور یہ گرنے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔
اٹالین سٹارٹ اپ واہو نے جوتوں کا ایک ایسا سول یعنی تلوا متعارف کروایا ہے جو درجہ حرارت اور نمی کے لحاظ اپنی ساخت تبدیل کر لیتا ہے۔
واہو کے پروجیکٹ مینجر کے مطابق یہ تلوا عمر رسیدہ افراد استعمال کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ لوگ بھی اسے استعمال کر سکتے ہیں جو فیکٹریوں میں یا کن کنی کا کام کرتے ہیں۔
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

شیئر:

متعلقہ خبریں