’پاکستان چلی جاؤ‘ کی دھمکی، ٹیچر برطرف

واضح رہے کہ اس سکول میں مسلمان لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
انڈین ریاست کیرالا میں لڑکیوں کے سرکاری سکول کی ٹیچر کو اس لیے برطرف کر دیا گیا کیونکہ اس نے مبینہ طور پر شہریت قانون میں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے متعدد بار ایک مسلمان لڑکی کو دھمکیاں دیں کہ وہ ’پاکستان جانے کے لیے تیار ہو جائے۔‘
انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق ’ایک مسلمان بچی کے والدین نے شکایت درج کروائی کہ ہندی کی ٹیچر نے کئی بار اپنی طالبات سے ہتک آمیز لہجے میں شہریت بل کی بات کی۔‘
سکول مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرپرسن سنیل دت نے بتایا کہ ’ٹیچر نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی بار شہریت کے قانون میں ہونے والی ترمیم اور پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے نہ صرف لڑکی کی بے عزتی کی بلکہ پیرنٹ ٹیچر میٹنگ میں بھی ایسا ہی رویہ اپنایا۔‘

 

انہوں نے یہ شکایت بھی کی کہ ٹیچر نے کئی دفعہ کلاس روم میں جنس کے حوالے سے معیوب جملے بھی کسے۔‘
واضح رہے کہ اس سکول میں مسلمان لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے۔
ڈسٹرکٹ ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کے حکم پر ٹیچر کو برطرف کر دیا گیا اور دیگر اساتذہ اور طالبات کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ سیٹیزن امینڈمنٹ ایکٹ (سی اے اے) میں ترمیم کے اعلان کے ساتھ انڈیا بھر میں پر تشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بل نہ صرف مسلمان مخالف ہے بلکہ یہ سیکولر انڈیا کی روح کی بھی نفی کرتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

بے جی پی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت انڈیا میں بسنے والے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہ قانون پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں بسنے والے غیر مسلوں کے لیے ہے تاکہ وہ انڈیا کی شہریت حاصل کر سکیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بل نہ صرف مسلمان مخالف ہے بلکہ یہ سیکولر انڈیا کی روح کی بھی نفی کرتا ہے۔

شیئر: