’ہم مشکل وقت سے گزر رہے ہیں‘

کرپشن سے متعلق معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل نے نئی رینکنگ جاری کی تو پاکستان میں کرپشن بڑھنے کی رپورٹ نے حکومتی حامیوں اور مخالفین کے درمیان نئی بحث چھیڑ دی۔
اس بحث میں شدت کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ انتخابی مہم اور اس سے پہلے کرپشن کو اپنا خصوصی موضوع بنانے والے وزیراعظم عمران خان بارہا ملک سے چند ماہ میں کرپشن ختم کرنے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔
گزشتہ دو روز سے پاکستانی ٹائم لائنز پر ٹرینڈز کی وجہ بننے والے کرپشن انڈیکس نے اس بار حکومتی جماعت کی قیادت کے بعد اس کے حامیوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔
مختلف سوشل میڈیا صارفین نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مندرجات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومتی حامیوں سے جواب طلبی کی۔
اس دوران پی ٹی آئی حکومت کے دوران مہنگائی باالخصوص اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کا گزشتہ ادوار سے تقابل بھی کیا جاتا رہا۔
ہاشم خان نامی ایک صارف نے ’نئے پاکستان‘ اور ’پرانے پاکستان‘ کی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ انہیں پرانا پاکستان ہی چاہیے۔

حکومت اور حامیوں سے جواب طلبی کرنے والے صارفین وزیراعظم عمران خان کی ماضی کی تقاریر کا حوالہ دیتے اور ان کے شاٹ کلپس شیئر کرتے رہے۔

یہ مشکل ہی ہوتا ہے کہ کسی بھی موضوع پر گفتگو ہو اور سوشل میڈیا اسے مزاح یا طنز کا رنگ نہ دے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اس بار بھی ہوا جب پی ٹی آئی حامیوں کے ممکنہ ردعمل کا طنز کا موضوع بنا لیا گیا۔ فصیح الدین نامی ہینڈل نے عمومی تاثر کے برعکس نتیجے کو اپنی ٹویٹ کا حصہ بنایا۔

پاکستان میں کرپشن بڑھنے کا جواب مانگے جانے اور سیاسی مخالفین کے لفظی نشتر پر مبنی تنقید کے جواب میں حکومتی حامی بھی خاموش نہیں رہے۔
جوابی گفتگو کے دوران ماضی میں پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والے نمایاں صارفین زیادہ دکھائی نہیں دیے البتہ خاصی تعداد میں ٹوئٹر صارفین وزیراعظم کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان دہراتے رہے۔
محمد حماد نامی ایک صارف نے لکھا کہ وہ وزیراعظم کی حمایت کرتے ہیں۔ کھلا چیلنج دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ بھی پوچھیں وہ جواب دیں گے۔

عائش نور نامی ہینڈل نے لکھا کہ وہ اب بھی وزیراعظم عمران خان کو سپورٹ کرتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ ’ہم مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔‘
معاشرتی رویے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اردگرد والوں سے غیر انسانی سلوک روا رکھتے ہیں۔

شیئر: