Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلاول بھٹو کی تقریر لکھتا کون ہے؟

پارٹی ذرائع کے مطابق بلاول لکھی ہوئی تقریر ترک کرکے از خود نوٹس لینا شروع کر دیا ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اگرچہ سیاست میں ابھی بھی نو وارد ہیں، لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے ان  کی تقاریر سے لوگ متاثر ہونے لگے ہیں۔
والدہ کی وفات کے چند سال بعد جب انہوں نے عملی سیاست میں باقاعدہ قدم رکھا تو انہیں اردو بولنا بھی نہیں آتی تھی۔ گو کہ ان کی والدہ بینظیر بھٹو کی اردو بھی کوئی باکمال نہیں تھی، لیکن برسہا برس کے بعد ان کا لہجہ ملک گیر مقبولیت اختیار کر گیا اور ان کا انداز بیاں لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا تھا۔
تاہم بلاول کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ ان کو تقریر کا فن سیکھنے اور اردو میں اپنی بات ایسے ڈھنگ میں کہنے جو لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا سکے میں ایک وقت لگے گا۔ 
مزید پڑھیں
لیکن خلاف توقع بلاول کی تقریر کے کاٹ دار جملوں نے جلد ہی قومی سیاسی محاوروں کی حیثیت اختیار کرنا شروع کر دی۔ ان کے کئی الفاظ اور جملوں پر وسیع پیمانے پر بحث ہوئی۔
اہم مواقع پر کی گئی بلاول کی ہر تقریر سے نکلنے والے دلچسپ جملوں اور الفاظ کے بعد کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو گیا کہ ان کی تقاریر لکھتا کون ہے بالخصوص اس وقت جب وہ صیح طرح سے اردو بول بھی نہیں سکتے۔
اردو نیوز نے یہ سوال بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی تقریر کے نکات خود لکھتے ہیں۔
جب بھی کوئی جلسہ یا تقریب ہو بلاول بھٹو زرداری مقامی قیادت سے مشاورت کرتے ہیں۔ اس کے بعد نوٹس لینے کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں جو دو چار دن تک جاری رہتا ہے۔ بلاول انہی نکات کو دیکھ کر خطاب کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما تسلیم نہیں کرتے کہ بلاول نے کوئی تقریر نویس رکھا ہوا ہے۔
پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی کہتے ہیں’اب تو بلاول فی البدیہہ (بھی) بات کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے نوٹس اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر بات کرتے ہیں۔ بلاول پہلے سے طے کر لیتے ہیں کہ انہیں کتنے منٹ بات کرنی ہے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر کے مطابق ’بلاول اپنے خطاب میں عوام کے معاشی، سماجی اور سیاسی حقوق کی بات اسی انداز میں کرتے ہیں جس انداز میں ان کے نانا اور والدہ کیا کرتی تھیں۔ اس وجہ سے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بلاول میں ان کی جھلک نظر آتی ہے۔

تقریر میں بلاول اپنے نانا اور ماں کی پیروی کرنے کی کوشش کررہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

فیصل کریم کنڈی کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کے کاٹ دار جملے زبان زد عام ہو رہے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں بلاول اب عوام کی نبض پر پر ہاتھ رکھنا جان گئے ہیں۔ بلاول پیپلز پارٹی کے بنیادی فلسفے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہیں۔
طاقت کا سرچشمہ عوام کو بنانے کا نعرہ لگا کر ہی بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو اپنا گرویدہ بنایا تھا اور پھر اپنی جذباتی اور جوشیلی تقریروں سے نہ صرف اس وقت لوگوں کو دیوانہ بنا دیا بلکہ آج بھی ان کے انداز بیاں کے لاکھوں مداح ہیں۔
ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے بعد ازاں انہی کے انداز کو اپنانے کی کوشش کی اور اب بلاول بھٹو بھی انہی کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بلاول کی تقریر کیسے تیار ہوتی ہے؟

بلاول بھٹو کے ایک قریبی ساتھی نے اردونیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بلاول کے نوٹس جب ٹائپ ہو جاتے ہیں تو ان کی متعدد کاپیاں تیار کی جاتی ہیں۔ بلاول مخصوص دوستوں اور رہنماؤں کو وہ کاپیاں تقسیم کرکے ان کی موجودگی میں تقریر کی ریہرسل کرتے ہیں۔ اس مشق کے دوران تلفظ کی تصحیح کے ساتھ ساتھ کچھ کمی اور اضافہ بھی کیا جاتا ہے۔ ایک نشست میں کئی بار یہ سلسلہ دہرایا جاتا ہے۔
اگر کوئی بلاول کے کسی پسندیدہ یا کاٹ دار جملے کو بدلنا چاہے تو وہ غصہ کرتے ہیں اسی وجہ سے ان کے قریبی رفقا نے تصیح کا سلسلہ کم کر دیا ہے۔
بلاول بھٹو کے قریبی ساتھیوں کے مطابق انہوں نے جس علاقے یا جس موضوع پر بات کرنی ہو وہ دیکھتے ہیں کہ اس علاقے میں ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو نے کبھی خطاب کیا تھا؟ اگر انھیں وہ تقریر ویڈیو، آڈیو یا تحریری طور پر مل جائے تو وہ اس سے بھی رہنمائی لیتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے خطاب میں اس علاقے میں برسوں پہلے کیے گئے خطاب کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔

بلاول کی جانب سے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران عمران خان کو ’سیلیکٹڈ ویزاعظم‘ کہنا بہت زیادہ مشہور ہوا (فوٹو: اے ایف پی) 

ابتدا میں بلاول کی تقریر پیپلز پارٹی کے ایک متحرک کارکن جن کو پیپلز پارٹی کی تاریخ پر عبور حاصل ہے، وہ لکھا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ بلاول بھٹو زرداری نے لکھی ہوئی تقریر ترک کرکے از خود نوٹس لینا شروع کر دیے۔

بلاول کے مشہور زمانہ بیانات کون سے ہیں؟

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی سیاست کا آغاز کیا تو انہیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور متحدہ قومی مومنٹ کے بانی الطاف حسین کی طرف سے کم عمری کا طعنہ سننے کو ملا۔ بلاول بھٹو زرداری نے چچا عمران اور چچا الطاف کی اصطلاحات متعارف کرائیں جو عرصے تک روایتی اور سوشل میڈیا پر سنائی دیتی رہیں۔
اسی طرح کشمیر کے انتخابات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے پنجابی میں ’لواں گے لواں گے پورا کشمیر لواں گے‘ کا نعرہ لگایا جسے کافی مقبولیت ملی۔ اسی دوران انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو ’مودی کا یار‘ قرار دیا۔
بلاول کے جس جملے بلکہ ایک لفظ کو سب سے زیادہ شہرت ملی وہ ’سلیکٹ‘ ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے انتخاب کے بعد بلاول جب پہلی بار خطاب کر رہے تھے تو انہوں نے بار بار کہا کہ وہ ’پرائم منسٹر سلیکٹ‘ کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ خود وزیر اعظم عمران خان اس کو ’وزیر اعظم الیکٹ‘ سمجھ کر ڈیسک بجاتے رہے۔

شیئر: