Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’عمران خان اور مشرف کے پاکستان میں کوئی فرق نہیں‘

بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر کیے جانے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں پر تشدد مشیر داخلہ اعجاز شاہ کا پرانا طریقہ کار ہے۔
بلاول بھٹو بدھ کو نیب میں پیشی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں کو سڑکوں پر آنے کی دعوت انہوں نے نہیں دی تھی اوراسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ نہ ہونے کے باوجود کارکنوں پر تشدد کیا گیا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سازش کی جارہی ہے جس کا مقصد تمام ملکی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان یک جماعتی نظام چاہتے ہوئے تمام اداروں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے آج کے اور گذشتہ دور کے پاکستان کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے پاکستان اور 2006 کے جنرل مشرف کے پاکستان میں ان کو کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
انہوں نے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کو سلیکٹڈ حکومت منظور نہیں اورعید کے بعد ان کی جماعت سڑکوں پر نکلے گی۔
ان کہا کہنا تھا کہ عمران خان ریاست کو مخالفین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور اسلام آباد میں نہتے کارکنوں پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ ’اگراسلام آباد میں ایسا ہو رہا ہے تو سوچیں کہ وزیرستان میں کیا ہو رہا ہو گا۔‘
بلاول بھٹو نے نیب کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ جنرل مشرف کا بنایا ہوا کالا قانون ہے جو سیاسی انتقام اورسیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے حوالے سے شدید تحفظات کے باوجود وہ نیب کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی قانون کی حکمرانی چاہتی ہے خواہ جیسا بھی قانون ہو۔

پولیس کا پیپلز پارٹی کے کارکنان پرلاٹھی چارج اور شیلنگ

قبل ازیں بدھ کی صبح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قومی احتساب بیورو (نیب) میں پیشی کے موقع پر اسلام آباد پولیس نے سیاسی کارکنوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور کئی افراد کو حراست میں لیا تھا۔ 
اسلام آباد میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور شہر کے ریڈ زون کے ساتھ واقع نیب کے دفتر کی طرف جانے والی سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ پولیس نے نیب دفتر کی جانب بڑھنے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر واٹر کینن سے پانی بھی پھینکا۔
بلاول بھٹو زرداری کی نیب پیشی کے بعد ان کے ترجمان سینیٹر مصطفٰی نواز کھوکھر نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا نیب میں مختصر انٹرویو ہوا۔
 بیان کے مطابق پارٹی کے چیئرمین کا کمپنی کے مالی اور انتظامی امور سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلاول بھٹو کو نیب کی جانب سے ایک سوال نامہ دیا گیا۔ ترجمان کے بیان میں کہا گیا تھا کہ بلاول بھٹو نے وکلا کی مشاورت سے سوال نامے کا جواب جمع کروا دیا ہے۔
قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی رکن شازیہ مری نے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریاں ناقابل برداشت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے رکن قومی اسمبلی شازیہ ثوبیہ اور مسرت مہیسر کو بھی گرفتار کرلیا، شازیہ مری کا کہنا تھا کہ کارکنوں پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔
 

بلاول بھٹو زرداری کی 20 مارچ کو نیب پیشی کے موقع پر لی گئی تصویر۔ (اے ایف پی)

 شازیہ مری نے کہا کہ پولیس نے خواتین پارلیمنٹیرینز اور کارکنوں پر بھی تشدد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں پر تشدد عمران خان کے حواس باختہ ہونے کی علامت ہے۔
اس سے قبل منگل کی رات گئے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ نے ایک درخواست کے ذریعے وفاقی سیکرٹری داخلہ سے کہا تھا کہ وہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں سے رابطہ کر کے سیاسی کارکنوں کو وفاقی دارالحکومت آنے سے روکنے کے لیے کہیں۔
پارٹی کے سینیئر رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ تبدیلی سرکار جو کہتی تھی کہ پیپلز پارٹی اسلام آباد میں جلسہ کرے، ہم کنٹینر دیں گے اب بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ایک اور یوٹرن پر مجبور ہو گئی ہے۔
انہوں نے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ بعض چینلز نے خبر چلائی ہے کہ آصف زرداری آج ہائی کورٹ میں پیش نہیں ہوں گے۔ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ’آصف زرداری اور فریال تالپور دونوں اب سے تھوڑی دیر بعد عدالت روانہ ہوں گے۔ پارٹی قیادت نے کبھی بھی مقدمات کا سامنا کرنے سے گریز نہیں کیا۔ جھوٹی خبر کا مقصد کارکنوں کے حوصلے پست کرنا تھا۔ 

شیئر: