درآمدی غذاؤں کی سخت چیکنگ

نیو کورونا وائرس کے سدباب کے لیے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں (فوٹوالشرق الاوسط)
سعودی عرب نے درآمدی غذاؤں کی کڑی نگرانی کے لیے سخت اقدامات کرلیے۔ 
الشرق الاوسط کے مطابق سخت اقدامات کا مقصد ہوائی اڈوں، بری سرحدی چوکیوں اور بندرگاہوں کے راستے آنے والی غذائی اشیا کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ سعودی عرب میں سولہ ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور بری سرحدی چوکیوں سے غذائی اشیا ملک میں داخل ہوتی ہیں۔ 

سعودی عرب غذائی اشیا دنیا بھر کے ملکوں سے درآمد کررہا ہے (فوٹو عرب نیوز)

شمالی سعودی عرب میں اردن سے ملنے والی سرحدی چوکی الحدیثہ پر سب سے زیادہ رش رہتا ہے۔ جہاں سے روزانہ کھانے پینے کی اشیا کے دسیوں ٹرک مملکت میں داخل ہوتے ہیں۔
سعودی کسٹم حکام نے روزمرہ کی کارروائی کے لیے عملے میں اضافہ کیا ہے۔ کام تیزی سے نمٹانے کے لیے تقسیم کار کر دیا گیا ہے۔ دو ملازم ٹرک سے کھانے پینے کی اشیا کے نمونے لے کر ان کا معائنہ کرتے ہیں جبکہ ایک اور کارکن ٹرک سے لائے جانے والے سامان کے کاغذات کی باریک بینی سے چھان بین کرتا ہے۔

لیبارٹری میں غذائی اشیا کے نمونے چیک کیے جاتے ہیں (فوٹو ٹوئٹر)

الحدیثہ بری سرحدی چوکی کے دوسری جانب کھانے پینے کی اشیا چیک کرنے والی لیباریٹری موجود ہے۔ جہاں ٹرکوں سے آنے والی غذائی اشیا کے نمونے چیک کیے جاتے ہیں۔
سعودی عرب اپنی 75 تا 80 فیصد غذائی اشیا دنیا بھر کے ملکوں سے درآمد کر رہا ہے۔ سعودی ایف ڈی اے نے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور بری سرحدی چوکیوں پر کھانے پینے کی اشیا چیک کرنے کے لیے سخت انتظامات اسی لیے کیے ہیں تاکہ کھانے پینے کی ایسی کوئی چیز سعودی عرب میں داخل نہ ہونے پائے جس سے سعودی شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور زائرین کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔
بری سرحدی چوکیوں پر سینکڑوں ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ ڈگریاں رکھتے ہیں۔ انہوں نے تربیتی کورس بھی کیے ہوئے ہیں۔ سعودی حکومت انہیں اپنا کام نمٹانے کے لیے جدید ترین مشینیں فراہم کرتی ہے۔
  • سعودی عرب کی خبروں کے لیے واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: