گرین لینڈ پر قبضے کی کوشش: ڈنمارک میں صدر ٹرمپ کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج
گرین لینڈ پر قبضے کی کوشش: ڈنمارک میں صدر ٹرمپ کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج
ہفتہ 17 جنوری 2026 18:39
ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کی سڑکوں پر سنیچر کو ہزاروں افراد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی کوششوں کے خلاف احتجاج کیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ مظاہرہ اس انتباہ کے بعد سامنے آیا جو ٹرمپ نے جمعے کو دیا تھا کہ اگر کسی ملک نے معدنی وسائل سے مالا مال گرین لینڈ پر قبضے کے ان کے منصوبے کی مخالفت کی تو وہ ایسے ممالک پر ٹیرف عائد کر سکتے ہیں۔ گرین لینڈ ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے۔
دریں اثنا امریکی کانگریس کے ایک وفد نے سنیچر کو کوپن ہیگن میں گرین لینڈ اور ڈنمارک کے سیاست دانوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ بہت سے امریکی ٹرمپ کے موقف کی مخالفت کرتے ہیں۔
مظاہرین نے کوپن ہیگن سٹی ہال کے باہر جمع ہو کر ڈنمارک اور گرین لینڈ کے جھنڈے لہرائے اور ‘Kalaallit Nunaat!’ کے نعرے لگائے، جو گرین لینڈ کی مقامی زبان میں اس وسیع قطبی جزیرے کا نام ہے۔
کچھ مظاہرین نے ’میک امریکہ گو اوے‘ کے بینر بھی اٹھا رکھے تھے، جو ٹرمپ کے ماگا نعرے پر طنز تھا، جبکہ دیگر پلے کارڈز پر ’امریکہ کے پاس پہلے ہی بہت کچھ ہے آئی سی ای‘ لکھا تھا، جس سے مراد امریکی شہروں میں مسلح امیگریشن اہلکاروں کی تعیناتی تھی۔
سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے کوپن ہیگن کے علاوہ آرهوس، آلبورگ، اوڈینسے اور گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں ہونے والے مارچز اور ریلیوں میں شرکت کا اعلان کیا تھا۔
ڈنمارک میں مقیم گرین لینڈ کے باشندوں کی تنظیم ’اوگوت‘ جو مظاہروں کے منتظمین میں شامل تھی، نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ ’مقصد یہ ہے کہ گرین لینڈ کی جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کا ایک واضح اور متحد پیغام دیا جائے۔‘
منتظمین کے مطابق نوک میں بھی مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے ایک مظاہرہ طے تھا، جس میں ٹرمپ کے ’گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے غیرقانونی منصوبوں‘ کے خلاف احتجاج کیا جانا تھا۔ مظاہرین گرین لینڈ کے جھنڈے اٹھائے امریکی قونصل خانے کی جانب مارچ کرنے والے تھے۔
مظاہرین گرین لینڈ کے جھنڈے اٹھائے امریکی قونصل خانے کی جانب مارچ کرنے والے تھے (فوٹو: روئٹرز)
’یہ اتحاد کا معاملہ ہے‘
کوپن ہیگن میں ہونے والا احتجاج امریکی سفارت خانے کی طرف بڑھا، جہاں مظاہرین نے ’گرین لینڈ برائے فروخت نہیں‘ کے نعرے لگائے۔
52 سالہ سماجی کارکن کرسٹن ہورنہولم نے کہا کہ ’کسی اتحادی کی جانب سے دباؤ ڈالنا قابل قبول نہیں۔ یہ بین الاقوامی قانون کا معاملہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’مملکت ڈنمارک کے لیے یہ اتحاد کا سوال ہے، لیکن خاص طور پر گرین لینڈ کے عوام کے لیے یہاں موجود ہونا بہت اہم ہے۔‘
گرین لینڈ میں ہونے والے مظاہرے کے بارے میں منتظم کرسٹیان جوہانسن نے بیان میں کہا کہ ’ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم متحرک ہیں، ہم متحد ہیں اور اپنے سیاست دانوں، سفارت کاروں اور شراکت داروں کی حمایت کرتے ہیں۔‘
جنوری 2025 میں شائع ہونے والے تازہ ترین سروے کے مطابق 85 فیصد گرین لینڈ کے باشندے اس علاقے کے امریکہ میں شامل ہونے کے خلاف ہیں، جبکہ صرف چھ فیصد اس کے حق میں ہیں۔
سماجی کارکن کرسٹن ہورنہولم نے کہا کہ ’کسی اتحادی کی جانب سے دباؤ ڈالنا قابل قبول نہیں‘ (فوٹو: روئٹرز)
کوپن ہیگن میں گفتگو کرتے ہوئے، جہاں امریکی قانون سازوں کے وفد نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے اعلیٰ سیاست دانوں اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے موقف کو درست ٹھہرانے کے لیے کوئی سکیورٹی خطرہ موجود نہیں۔
وہ ٹرمپ کے مشیر سٹیفن ملر کے اس دعوے پر ردعمل دے رہے تھے جس میں انہوں نے فاکس نیوز پر کہا تھا کہ ڈنمارک اپنے قطبی علاقے کے دفاع کے لیے بہت چھوٹا ہے۔
کونز نے کہا کہ ’قطبی خطے میں مجموعی طور پر سکیورٹی میں بہتر سرمایہ کاری کے طریقے تلاش کرنے کی جائز وجوہات موجود ہیں، چاہے وہ امریکی قطبِ شمالی ہو یا ہمارے نیٹو شراکت دار اور اتحادی۔‘
نیٹو افواج
صدر ٹرمپ بارہا نیٹو کے اتحادی ڈنمارک پر تنقید کرتے رہے ہیں اور ان کے بقول ڈنمارک گرین لینڈ کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہا۔
یہ موقف اس حقیقت کے باوجود اختیار کیا گیا کہ گرین لینڈ نیٹو کے سکیورٹی حصار میں شامل ہے۔
نیٹو میں شامل ممالک گرین لینڈ میں ایک فوجی مشق کے لیے افواج تعینات کر رہے ہیں، جس کے بارے میں فرانس نے کہا ہے کہ اس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ اس علاقے کا دفاع کریں گے۔
ڈنمارک نے کہا ہے کہ امریکہ کو بھی اس مشق میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔