شوہر کی تعلیم، لاکھوں خرچ کرنا مہنگا پڑ گیا

بیوی نے جمع پونچی شوہر پر خرچ کر دی مگر بدلے میں طلاق نامہ ملا (فوٹو: سوشل میڈیا)
شوہر کی اعلیٰ تعلیم کے لیے لاکھوں ریال کے اخراجات برداشت کرنا بیوی کو مہنگا پڑ گیا۔ شوہر کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے بیوی نے جمع پونچی دے دی مگر جب آرام اٹھانے کا وقت آیا تو شوہر نے بیوی کے ہاتھ میں طلاق نامہ تھما دیا۔
مظلوم بیوی نے داد رسی کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ’ شادی کے بعد شوہر کی خواہش پر اسے اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے 10 لاکھ ریال کے اخراجات برداشت کیے تاکہ ہماری بعد کی زندگی پرسکون گزرے مگرمیں نہیں جانتی تھی کہ جس شخص پر میں اپنی زندگی بھر کی جمع پونچی خرچ کر رہی ہوں اس کا منصوبہ ہی کچھ اور ہے۔‘
عدالت نے مقدمے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد شوہر کو پابند کیا کہ وہ مطلقہ سے لی گئی تمام رقم واپس کرے جو اس کی تعلیم پر خرچ کی گئی تھی۔

عدالت نے شوہر کو بیوی کی رقم لوٹانے کا حکم دے دیا (فوٹو: سوشل میڈیا)

مقامی ویب نیوز ’عاجل‘ سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کے وکیل نے کہا کہ ’ میری موکلہ نے اپنے شوہر کی تعلیم پر اس لیے خرچ کیا تھا کہ وہ واپس آ کر اچھی جگہ نوکری کرے گا جس سے ان کی آئندہ زندگی بہتر گزرے گی مگر میری موکلہ کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ جس پر احسان کر رہی ہے وہ احسان کے معنی ہی سے واقف نہیں‘۔
عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران شوہر کا کہنا تھا کہ ’ یہ درست ہے کہ میری بیوی نے مجھے 10 لاکھ ریال دیے تھے تاکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکوں تاہم دی گئی رقم تحفہ تھی اور تحفہ لوٹایا نہیں جاتا۔‘
شوہر کی جانب سے دیے گئے جواب پر بیوی کا کہنا تھا کہ ’ میں نے اپنی جمع پونچی اس لیے نہیں دی تھی کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مجھے اپنی زندگی سے ہی نکال باہر کرے گا۔ بیوی نے کہا کہ ’ میری خواہش تھی کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اچھی ملازمت حاصل کرے گا اور ہماری زندگی بہتر انداز میں گزرے گی مگر اس نے میری کسی قربانی کا خیال ہی نہیں کیا۔‘
متاثرہ خاتون کا مزید کہنا تھا کہ ’رقم لینے سے قبل شوہر نے اس بات کا بھی یقین دلایا تھا کہ وہ اچھی نوکری ملتے ہی تمام رقم لوٹا دے گا مگر رقم واپس کرنا تو دور کی بات اس نے تو تعلق ہی ختم کر دیا۔‘
عدالت کی جانب سے شوہر کو پابند کیا گیا کہ وہ حاصل کی جانے والی رقم فوری طور پر واپس کرے کیونکہ خاتون نے اپنی جمع پونچی اس لیے نہیں دی تھی کہ وہ اپنا مقصد حاصل کر کے اسے نقصان پہنچائے، اس لیے مدعی علیہ کو چاہیے کہ وہ رقم واپس کرے۔

شیئر: