Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جرم جرم ہوتا ہے، یہاں ہو یا امریکہ میں

پاکستان میں جرائم کی شرح مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ فوٹو اے ایف پی
پاکستان میں جرائم جانے کب سے ہو رہے ہیں۔ ان کی خبریں بھی معمول کے مطابق ہی چھپ رہی ہیں لیکن ہر بار خبر پڑھتے ہوئے یا ٹی وی پر دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ اب کی بار جو جرائم کی شرح ہے وہ اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ہوتا یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر اعدادوشمار تلاش کرکے تصدیق یا تردید کے بجائے میں اپنا خیال احباب کے حضور پیش کر دیتا ہوں۔
بات شروع ہی یہاں سے ہوتی ہے، ’یار! اپنے پاکستان میں جرائم بہت بڑھ گئے ہیں۔ دیکھو نا، کیا اس لیے ہمارے بزرگوں نے یہ وطن بنایا تھا‘
اس کے جواب میں کچھ تو تاسف سے سر ہلاتے ہیں لیکن کچھ تحقیق پسند بہت ہی دور کی کوڑی لے آتے ہیں۔ جیب سے موبائل نکالتے ہیں اور اعداد و شمار نکال کر میرے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ پاکستان کے نہیں، امریکا کے، شاید ان کی حب الوطنی کو ضرب لگ جاتی ہے، اس لیے وہ پاکستان کا مقابلہ امریکا سے کرنے لگتے ہیں۔
اندازہ کیجیے، موبائل تقریباً میری آنکھوں میں گھسیڑتے ہوئے کہتے ہیں، ’یہ دیکھو، مہذب ملکوں میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ یہ دیکھو اتنے قتل ہوئے، اتنی خواتین کی عصمت دری ہوئی، اتنے گھروں میں ڈاکے پڑے۔‘

گرفتاریوں سے زیادہ اہم عوام میں تحفظ کے احساس کا پیدا ہونا ہے۔ فوٹو سوشل میڈیا

اچھا، اب میرا گمان یہ ہے کہ امریکا میں اگر کوئی جرم ہوتا ہوگا، تو رپورٹ بھی ہوتا ہو گا۔ وہاں کی پولیس یہ نہیں کہتی ہو گی کہ ڈکیتی کا پرچہ نہ کرائیں گمشدگی کا کرا لیں اور پھر جب پولیس پرچہ درج کر لیتی ہو گی، تواپنے خرچے پر کارروائی بھی کرتی ہو گی۔
امریکا کا تحقیقاتی ادارہ، ایف بی آئی، ہر سال امریکا میں جرائم کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔ اس کے مطابق 2018 میں 12لاکھ چھ ہزار 836 جرائم ہوئے اور گرفتاریاں کتنی ہوئیں؟ ایک کروڑ 30لاکھ

لاہور کی نسبت کراچی میں عدم تحفظ کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔ فوٹو سوشل میڈیا

میں تو کہتا ہوں گرفتاریوں سے بھی زیادہ اہم بات ہے عوام کا احساس تحفظ۔ کسی ملک یا شہر میں جرائم کی شرح سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہاں کے رہنے والے خود کو کتنا محفوظ تصور کرتے ہیں۔
مثلاً میں ایک دفعہ کراچی گیا تو وہاں رات کے وقت میرے دوست نے راستہ پوچھنے کے لیے بھی گاڑی سے اترنے نہ دیا۔ اسے خوف تھا کہ ذرا لمحے کو گاڑی روکی تو کوئی واردات نہ ہو جائے۔ لاہور میں بھی خوف محسوس ہوتا ہے لیکن اتنا نہیں۔ اس کا مطلب ہے قانون کی حکمرانی کا ایک انڈی کیٹر عوام کا احساس تحفظ بھی ہے۔

امریکا کا تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی ہر سال ملک میں جرائم کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔ فوٹو انسپلیش

میں امریکا ایک ہی بار گیا ہوں۔ وہ بھی چند دن کے لیے اور چار شہر ہی دیکھے۔ لہٰذا ضروری نہیں کہ میری رائے درست ہو لیکن اپنے محدود مشاہدے میں یہی آیا کہ رات کے بارہ ایک بجے بھی، اکیلی خواتین سڑکوں پر بے خوفی سے چہل قدمی کر رہی ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ وہ محفوظ رہیں گی تب ہی تو یوں اکیلی نکل آتی ہیں۔ کیا پاکستان میں کوئی خاتون اس طرح رات گئے نکلنے کا سوچ سکتی ہے؟ وہاں کی خواتین اندھیری راتوں میں سنسان سڑکوں پر بھی خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں۔ یہاں پاکستان میں آپ اپنے بچوں کو اکیلے مسجد بھیجتے ہوئے بھی محفوظ نہیں سمجھتے۔
تو صاحبان! جرائم کی شرح اپنی جگہ اہم ہے۔ لوگوں کا اپنے قانون اور نظام پر اعتماد اس سے بھی اہم ہے۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: