Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ریاست کو مختلف آوازوں کو دبانے کے بجائے سننا چاہیے‘

حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے صارفین کا ڈیٹا شیئر کرنے کا کہا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کی میڈیا پر پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کو مختلف آوازوں کو دبانے کے بجائے سننا چاہیے۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مثبت تنقید بغاوت یاغداری نہیں ہوتی، بلکہ حکومت کوصحیح راستہ دکھانےمیں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ حکومت نے سوشل میڈیا کے حوالے سے نئے قواعد کی منظوری دی تھی جس کے تحت فیس بک، ٹوئٹر، گوگل اور دیگر کمپنیوں سے کہا گیا تھا کہ تین ماہ کے اندر پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کرنے اور صارفین کا مطلوبہ ڈیٹا حکومت کے ساتھ شیئر کرنے کا بھی کہا تھا۔ 
سوشل میڈیا کے نئے قواعد پر نہ صرف بین الاقوامی کمپنیوں نے تنقید کی تھی بلکہ پاکستان کی سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیمیوں اور پاکستان بار کونسل نے بھی ان کو مخالف آوازوں کا گلہ کھونٹنے کی کوشش قرار دیا تھا۔ 
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ہم سب محب وطن پاکستانی ہیں، ریاست کومختلف آوازیں برداشت کرنی چاہیے، دبانےکی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان نے خود نواز شریف کو لندن بھیجا (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت این جی اوز اور سول سوسائٹی کو بھی قابو میں رکھنا چاہتی ہے۔ ’حکومت کی نااہلی کےباعث این جی اوز کا کردار محدود ہو گیا ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مثبت تنقید بغاوت یاغداری نہیں ہوتی، بلکہ حکومت کوصحیح راستہ دکھانےمیں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو واپس لانے کی کوششیں حکومت کی ’منافقت‘ ہے۔
حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی تحریک انصاف حکومت اورآئی ایم ایف کا ’گٹھ جوڑ ‘عوام کےسامنےلائے گی۔

شیئر: