Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کشمیر میں سات ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال

کشمیر میں انٹرنیٹ سروس فی الحال دو ہفتوں کے لیے بحال کی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں قریباً سات ماہ بعد جمعرات کو براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے۔
گذشتہ برس پانچ اگست کو انڈین آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے وہاں انٹرنیٹ پر پابندی عائد تھی۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق گذشتہ روز چار مارچ کو کشمیر انتظامیہ کی جانب سے ایک سرکلر جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’جمعرات سے کشمیری عوام ٹُو جی کی رفتار پر غیر محدود انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔‘

 

خیال رہے کہ انٹرنیٹ سروس فی الحال صرف دو ہفتوں کے لیے بحال کی گئی ہے اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس میں توسیع کی جائے گی۔
اس فیصلے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ’کشمیر‘، ’کشمیر انٹرنیٹ‘ اور ’ 4 جی‘ جیسے ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگے۔
اطلاعات کے مطابق اس سے قبل جموں کشمیر انتظامیہ نے وی پی این یعنی ورچوئل پراویٹ نیٹ ورک کو بند کر دیا تھا۔ انھیں یہ اطلاعات ملی تھیں کہ مقامی افراد وی پی این کے ذریعے سوشل میڈیا سائٹس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔
رواں سال جنوری میں انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ ’انٹرنیٹ تک رسائی ہر شہری کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔‘
مُحبہ احمد نامی ایک صارف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’براڈ بینڈ سروس بحال ہو گئی ہے۔ میں بہت شکر گزار ہوں حالانکہ ہمیں مشکور نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ میرا بنیادی حق ہے۔'
 عامر بشیر 2 نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’اب دنیا ہم سے پوچھے گی کہ ہم نے انٹرنیٹ کی پابندی کے سات ماہ میں کیا کیا؟ تو ہم یہ کہیں گے کہ ہم ہنسے، ہم روئے، ہم متاثر نہیں ہیں بلکہ ہم زندہ بچ جانے والے ہیں۔‘
بہت سے صارفین نے لکھا ہے کہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس بحال تو ہوئی ہے لیکن انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ جاری نہیں رہے گی اور اس پر پھر سے پابندی لگا دی جائے گی۔
بہت سے صارفین نے لکھا ہے کہ فور جی کی رفتار شاید ہی بحال کی جائے۔
اشفاق احمد میر نام کے ایک صارف نے بالی وڈ کے گانے کی طرز پر ٹویٹ کی کہ ’فور جی تیری امید تیرا انتظار کرتے ہیں۔‘
ایک شخص نے مطالبہ کیا کہ ’کشمیر میں فور جی یعنی چوتھی جنریشن کی انٹرنیٹ سپیڈ بحال کی جائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’کشمیر میں زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہے۔‘

شیئر: