Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کورونا سے پریشان جرمن وزیر کی خودکشی

تھامس کورونا سے پیدا ہونے والے مالی بحران سے پریشان تھے (فوٹو: اے ایف پی)
کورونا وائرس کی عالمی وبا پھیلنے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے اس وائرس سے بے بس ہو کر خودکشی کی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ظاہری طور پر جرمن ریاست ہیسے کے وزیر خزانہ تھامس شیفر نے اس بات پر پریشان ہو کر اپنی جان لے لی ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے مالی بحران سے کیسے نمٹا جائے گا؟
جرمن چانسلر اینجیلا مارکل کے قریبی ساتھی اور ریاست کے سربراہ والکر باؤفیر کے مطابق وزیر خزانہ کی عمر 54 برس تھی اور وہ ریلوے لائن کے قریب مردہ حالت میں پائے گئے، جبکہ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے خودکشی کی ہے۔
جرمنی میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 58 ہزار سے زائد ہے جبکہ 455 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
والکر باؤفیر کا کہنا ہے کہ ’ہم سکتے میں ہیں، ہمیں یقین نہیں ہو رہا اور سب سے زیادہ یہ کہ ہم بہت افسردہ ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ تھامس 10 برس سے وزیر خزانہ کے فرائض انجام دے رہے تھے اور وہ عالمی وبا کی وجہ سے معیشت پر پڑنے والے اثرات پر قابو پانے کے لیے دن رات مالی کمپنیوں کی مدد میں مصروف تھے۔
’ہمیں آج اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ کتنے زیادہ پریشان تھے۔ یہ ایسا وقت ہے کہ ہمیں ایک ایسے ہی شخص کی ضرورت تھی۔‘

جرمن چانسلر کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

لوگوں میں مقبول تھامس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ریاست کے سربراہ کے جانشین ہوں گے۔ والکر کی طرح تھامس کا تعلق بھی انیجیلا مارکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو سے تھا۔
تھامس شیفر شادی شدہ تھے اور ان کے دو بچے تھے۔
جرمن چانسلر گذشتہ ہفتے ایک میٹنگ کے بعد قرنطینہ میں چلی گئی تھیں تاہم ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔

شیئر: