Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قرنطینہ میں اپنے ساتھ کرکٹ کیسے کھیلیں؟

لاک ڈاون کی وجہ سے گھروں سے باہر دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا ممکن نہیں (فوٹو:سوشل میڈیا)
ٹوئٹر ٹائم لائنز پر آج کل کچھ ویڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں جن میں لوگ قرنطینہ میں وقت گزارنے کے لیے گھروں میں کرکٹ کھیل رہے ہیں۔
کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر تو نہیں نکل سکتے اس لیے دوستوں کے ساتھ مل کر کرکٹ کھیلنا ممکن نہیں۔
ایسے میں کچھ تو گھروں کے صحن میں اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر چوکے چھکے مارتے نظر آرہے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی پرفارمنس بہتر کرنے کے لیے قرنطینہ کو بہترین وقت سمجھ لیا ہے۔
کرکٹ کھیلنے کے شوقین بچے بھی کسی سے پیچھے نہیں، ٹوئٹر پر اس وقت ایک بچے کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس نے اپنی پریکٹس کے لیے منفرد طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔
یہ بچہ کوئی اور نہیں بلکہ سینیٹر مرتضیٰ وہاب کا بھانجا ہے جس کی ویڈیو انہوں نے خود اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر شیئر کی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچے نے اپنی ٹوپی میں لاسٹک کے ساتھ بال کو باندھ رکھا ہے۔ لچک کی وجہ سے جب بال واپس آتی ہے تو وہ اپنے بلے کی مدد سے اسے ہٹ کرچرہے ہیں۔
اس ویڈیو کو سوشل میڈیا صارفین نے بہت پسند کیا ہے اور کچھ نے تو کرکٹ کے حوالے سے 'مفید' مشورے بھی دیے ہیں۔
ٹوئٹر صارف ضمیر احمد ملک نے کہا کہ اس بال کی جگہ اگر پلاسٹک بال کا استعمال کیا جائے تو اسے ٹائمنگ بہتر کرنے میں زیادہ مدد ملے گی کیونکہ ٹینس بال ٹائمنگ اور جگہ خراب کرتی ہے۔
انہوں نے اپنی اگلی ٹویٹ میں یہ بھی بتایا کہ 'ہم پلاسٹک کا استمعال کرتے ہوئے یونس خان کے ساتھ سٹیل ٹاؤن میں کھیلا کرتے تھے۔'

علی وہاب نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ 'یہ اچھی بات ہے کہ بچہ خود سے ہی یہ کھیل سکتا ہے اس کو ربڑ بال سے بدل دیں گے۔'

عدنان نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ 'میری بیوی نے ہمارے بیٹے کے کھلینے کے لیے بال کو مزید لچکدار بنانے کے لیے اسے لاسٹک کی مدد سے دروازے کے ساتھ لٹکا دیا ہے۔'

ٹوئٹر صارف مرتضی بلوچ نے بچے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ 'ایسے ہی محنت کرو انشااللہ میدان میں بھی کھیلو گے۔'
دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے سٹار بلے باز بابر اعظم کی ویڈیو بھی دیکھنے کو ملی ہے جس میں وہ اپنے گھر میں کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

شیئر: