Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وائٹ ہاؤس نے مودی کو ان فالو کیوں کیا؟

وائٹ ہاؤس نے انڈیا کے اعلیٰ حکام کو ٹوئٹر پر ان فالو کر دیا (فوٹو: ٹوئٹر)
وائٹ ہاؤس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انڈین وزیراعظم نریندر مودی اور صدر رام ناتھ کوند کو ان فالو کردیا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں وائٹ ہاؤس نے وزیراعظم مودی، پی ایم او، صدر رام ناتھ کووند اور امریکہ میں انڈین سفارت خانے کے ٹوئٹر ہینڈل کو فالو کرنا شروع کیا تھا لیکن ایک رپورٹ کے مطابق اب وہ صرف امریکہ میں انڈین سفارت خانے کو ہی فالو کر رہا ہے۔
اب وائٹ ہاؤس صرف 13 اکاؤنٹس کو فالو کر رہا ہے جس میں ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ سے متعلق اکاؤنٹس ہیں۔
سماجی کارکن اویس سلطان خان نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان فالو کیے جانے کی خبر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’انڈیا صرف روز افزوں تعصب اور اقلیتوں کے خلاف تشدد بھڑکانے کی وجہ دنیا میں اپنی ساکھ گنوا رہا ہے۔ یہ ایک نیا دھچکہ ہے۔‘

 

گذشتہ دنوں مذہبی آزادی کے حوالے سے امریکہ کے مذہبی آزادی پر کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) نے انڈیا کو ’خصوصی تشویش والے ملک‘ کی فہرست میں شامل کیا ہے جسے انڈیا نے سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔
بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں انڈیا کو پاکستان، چین اور شمالی کوریا کے ساتھ رکھا ہے اور کہا کہ 'ان ممالک میں مذہبی آزادی کی صورت حال تشویشناک ہے۔'
اپنے کلیدی نکات میں یو ایس سی آئی آر ایف نے کہا کہ 'سنہ 2019 میں وزیر اعظم مودی کی زبردست کامیابی کے بعد قومی حکومت نے ایسے قوانین بنائے جس میں ملک بھر میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور بطور خاص یہ قوانین مسلمانوں کے خلاف ہیں۔'
اس رپورٹ میں شہریت کے ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی یعنی نیشنل ریجسٹر آف سٹیزن کا ذکر ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے انڈیا میں رہنے والے لاکھوں مسلمانوں کی شہریت کو خطرہ لاحق ہوگا اور انہیں حراستی کیمپس میں رہنا ہوگا۔
اس میں خصوصی طور پر انڈیا کے وزیر داخلہ امیت شاہ کا ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے تارکین وطن کو 'دیمک' سے تعبیر کیا اور کہا تھا کہ ’انہیں ختم کیا جانا ہے۔‘
انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم انڈیا کے بارے میں یو ایس سی آئی آر ایف کی سالانہ رپورٹ میں ظاہر کیے جانے والے آبزرویشن کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ جانب دار ہے اور عادتاً انڈیا کے خلاف یہ بیانات نئے نہیں ہیں۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل انڈیا کو اس درجے میں 2004 میں ڈالا گیا تھا اور اس کی وجہ 2002 میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات اور اس پر حکومت کی خاموشی تھی۔
اگرچہ انڈین حکومت نے امریکی رپورٹ کو جانبدار اور خراب نمائندگی کی نئی سطح کہہ کر مسترد کر دیا ہے لیکن انڈیا کے معروف وکیل پرشانت بھوشن نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ 'یو ایس سی آئی ایف آر نے اپنی 2020 کی رپورٹ میں انڈیا کی رینکنگ انتہائی نیچے درجے تک گرا دی ہے۔ اس نے انڈیا کو چین، شمالی کوریا، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ رکھا ہے۔ ہم اپنے اسلاموفوبیا کی وجہ سے خبریں بنا رہے ہیں۔'
انڈیا کی تاریخ میں خصوصی دلچسپی رکھنے والی امریکی مورخ آڈری ٹرشکی نے ٹویٹ کی کہ ’گذشتہ روز یو ایس سی آئی آر ایف نے انڈیا کو مذہبی آزادی کی بدترین خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا۔ دہلی پولیس اس قدم کی درست ثابت کرنے کے لیے اوور ٹائم کام کر رہی ہے۔‘
یاد رہے کہ دہلی پولیس نے شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کی عالمی پیمانے پر مذمت کی گئی تھی۔
اس سب کے باوجود انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف منافرت میں کمی نظر نہیں آر ہی ہے۔ نیوز 18 کی خبر کے مطابق اترپردیش کے مہوبا چرکھری کے بی جے پی ایم ایل اے برجبھوشن راجپوت کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انہوں نے ایک سبزی فروش سے پہلے اس کا نام پوچھا اور اسے دھمکایا کہ ’آج کے بعد محلے میں نظر نہ آنا تم لوگ۔۔۔ نہیں تو مار مار کے ٹھیک کر دیں گے۔‘
خیال رہے کہ یہ واقعہ اس واقعے کے ایک دن بعد کا ہے جب بی جے پی کے ایم ایل اے سوریش تیواری کو اس بات کے لیے پارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ’مسلمانوں سے سبزیاں نہ خریدو۔‘
دریں اثنا انڈیا میں کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کی تعداد 33 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد 1100 کے قریب پہنچ چکی ہے۔

شیئر: