Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’انڈیا سرحد پر اپنی افواج کو قابو میں رکھے‘

چین اور انڈیا سرحد پر جاری کشیدگی کو جلد از جلد کم کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ 
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کو چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سرحد پر جھڑپ کے بعد دونوں ملکوں کے حکام نے کشیدہ صورتحال اور تناؤ کو کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق چین کے سینیئر سفارت کار وانگ ای نے انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامینیم جے شنکر کو فون کیا اور کہا کہ انڈیا اپنے ان افراد کو سخت سزا دے جو اس تنازعے کے ذمے دار ہیں اور سرحد پر اپنی فرنٹ لائن افواج کو قابو میں رکھے۔
دوسری جانب انڈیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین وزیر خارجہ نے فون پر ہونے والے رابطے میں چین کے وزیر خارجہ سے گالوان میں پیش آنے والے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔
بیان کے مطابق انڈین وزیر خارجہ نے کہا کہ چین اور انڈیا کے عسکری کمانڈروں نے چھ جون کو ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وادی گالوان میں سرحد پر کشیدگی کم کی جائے گی۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈین وزیر خارجہ نے چینی ہم منصب کو بتایا کہ علاقے میں غیر معمولی واقعات دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات پر اثرانداز ہوں گے۔
انڈین وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق گذشتہ ہفتے علاقے میں موجود دونوں افواج کے کمانڈرز باقاعدگی سے ملاقاتیں کر رہے تھے اور اتفاق رائے پایا جا رہا تھا مگر اس دوران چین کی جانب سے گالوان کی وادی میں انڈیا کی حدود میں تعمیرات کی گئیں۔
بیان کے مطابق یہی چیز وجہ تنازع بنی اور چین کی جانب سے پہل کرتے ہوئے منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کی گئی جو تشدد اور ہلاکتوں کا باعث بنی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان تمام معاہدوں کی خلاف ورزی کی گئی جن میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ علاقے میں ’سٹیٹس کو‘ برقرار رکھا جائے گا۔
قبل ازیں بدھ کو انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ میں چینی فوج سے جھڑپ میں 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ان کے سپاہیوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک امن کا خواہاں ہے لیکن اشتعال انگیزی پر منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
نریندر مودی نے مزید کہا کہ قوم اطمینان رکھے، ملک کا دفاع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ چین اور انڈیا نے پیر کو سرحدی جھڑپ کے بعد ایک دوسرے کو قصوروار قرار دیا ہے۔ اس جھڑپ میں 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔

جھڑپ کے دوران دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا (فوٹو: روئٹرز)

چین اور انڈیا کے درمیان سرحد پر کم از کم تین مقامات پر تقریباً ایک ماہ سے صورت حال تناؤ کا شکار تھی تاہم کوئی بڑا واقعہ پیش ںہیں آیا تھا۔ تاہم منگل کو ہونے والی جھڑپ میں انڈین فوجیوں کی ہلاکت کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حالات جلد معمول پر نہیں آئیں گے۔
اے ایف پی کے مطابق دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان 3500 کلومیٹر طویل سرحد ہے جس پر کوئی باقاعدہ حد بندی نہیں ہوئی۔
دونوں ممالک کی افواج کے درمیان اکثر اوقات جھگڑا اور تناؤ معمول کی بات ہے تاہم دہائیوں سے یہاں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔

شیئر: