Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دبئی میں اردنی فیملی فٹ پاتھ پر آسکتی ہے

اردنی باشندے ابو احمد کو دو برس قبل کمپنی نے سبکدوش کردیا تھا (فوٹو: الامارات الیوم)
دبئی  میں چار افراد پر مشتمل اردنی فیملی کو فٹ پاتھ پر منتقل ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا۔ 2 لاکھ  38 ہزار 764 درہم کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے فیملی کے سربراہ  کے جیل جانے کا خطرہ ہے۔ ڈھائی برس سے مکان کا کرایہ ادا نہ کرنے سے صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔
الامارات الیوم کے مطابق اردنی فیملی کا کہنا ہے کہ اگر فیملی کے سربراہ کو جیل بھیج دیا گیا تو گزر بسر کے اخراجات بھی مشکل ہوجائیں گے۔ گھر کے بجائے فٹ پاتھ کی راہ لینا پڑے گی۔
مزید پڑھیں
اردنی باشندے ابو احمد کو دو برس قبل کمپنی نے سبکدوش کردیا تھا۔ 2018 سے اس کے ذمہ  گھر کا کرایہ ہے- ابو احمد اب ماہانہ 5 ہزار درہم تنخواہ پر ایک دکان پر کام کررہا ہے۔ اس رقم سے اہل خانہ کی بنیادی ضروریات ہی بمشکل پوری ہو پاتی ہیں۔
ابو احمد نے بتایا کہ اس نے نجی کمپنی میں سات برس کام کیا۔ مالی حالت اچھی رہی۔ بچے بڑے ہوئے تو اخراجات بڑھتے چلے گئے۔ نئی ملازمت تلاش کرتے کرتے 2007 میں ایک نجی کمپنی میں کام مل گیا- دن رات اچھی طرح گزرنے لگے-
’ کبھی خوابوخیال میں بھی نہ سوچا تھا کہ  مالی حالت بہت زیادہ بگڑ جائے گی۔ 2018 میں کمپنی نے مجھے سبکدوش کر دیا۔ سرکاری اور نجی کمپنیوں کے دروازے کھٹکھٹاتا رہا- دسمبر 2019 میں ایک دوست نے مٹھائی کی دکان پر 5 ہزار درہم کی ملازمت دلائی۔ بنیادی ضروریات پوری کرنے کی غرض سے یہ ملازمت قبول کی ہے۔‘
ابو احمد کا کہنا ہےکہ مجھے دو برس سے کبھی ایسا موقع نہیں ملا کہ آمدنی کا کچھ حصہ مکان کے کرائے کے لیے جمع کر سکوں۔ مالک مکان نے میرے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یا تو سارا کرایہ ادا کیا جائے یا مجھے جیل بھیج دیا جائے۔
اردنی باشندے نے مزید کہا کہ’ جیل جانے سے مالک مکان کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوگا البتہ میری فیملی برباد ہوجائے گی۔‘

 

خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: