Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

'حزب اللہ کی قیادت تباہی کی ذمہ دار ہے'

ایران کی جانب سے مکمل  مالی مدد پر اس گروپ کا انحصار ہے۔(فوٹو عرب نیوز)
حزب اللہ کے سابق سربراہ صبحی الطفیلی نے لبنان کی تباہی کا ذمہ دار ملیشیا تنظیم کی موجودہ قیادت کو ٹھہرایا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق صبحی الطفیلی نے کہا کہ حسن نصراللہ  جو ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ کے سربراہ ہیں، ان کے خلاف بھی مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

انہی ہتھیاروں نے شام، عراق اور یمن کو تباہ کیا (فوٹو: ٹوئٹر)

صبحی الطفیلی 1983سے 1984 تک ملیشیا تنظیم حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ لبنان کے وزیر اعظم حسن دیاب اس گروپ  کے ساتھ تھے اور یہی وجہ ہے کہ اس ملیشیا گروپ کی قیادت ہی اصل مسئلے کی جڑ ہے۔ اس قیادت کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔
لبنانی گروپ حزب اللہ سعودی عرب سمیت امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور خلیجی ریاستوں میں دہشت گرد گروپوں کی لسٹ میں شامل ہے۔
یہ ایران کا شیعہ ملیشیا گروپ ہے جو ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کارپس (IRGC) کی جانب سے 1982 میں لبنان میں قائم ہوا تھا۔ ایران کی جانب سے مکمل مالی مدد پر اس گروپ کا انحصار ہے۔

یورپی یونین اور خلیجی ریاستوں میں دہشت گرد گروپوں کی لسٹ میں شامل ہے (فوٹو: ٹوئٹر)

حزب اللہ کے سابق رہنما نے کہا کہ حزب اللہ ایران کی جانب سے فراہم کردہ اسلحہ کے ذریعے لبنان اور خطے کے دوسرے ممالک کو  تباہ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہی ہتھیاروں نے شام کو تباہ کردیا، عراق کو تباہ کیا، یمن کو تباہ کیا، لبنان کو تباہی کی جانب دھکیل دیا اور بیروت میں دھماکے ہوئے۔
صبحی الطفیلی کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بیروت میں بم دھماکوں کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں لبنان حکومت نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

بم دھماکے کے ایک ہفتے سے کم عرصے میں لبنان کی حکومت نے استعفیٰ دے دیا (فوٹو: ٹوئٹر)

لبنان کے وزیراعظم حسن دیاب نے گذشتہ دسمبر میں اقتدار سنبھالا تھا اور وہ لبنان کی سنگین مالی اور معاشی صورت حال کو حل کرنے میں پیش رفت نہ ہونے پر پہلے ہی دباؤ میں تھے۔
 

شیئر: