Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے امارات کے لیے آئرن ڈوم اور عملہ بھیجا تھا: امریکی سفیر

اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے دفاع کے لیے آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام اور اسے چلانے والا عملہ یو اے ای بھیجا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق تل ابیب میں منگل کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات  کے درمیان دفاعی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ میں نازک جنگ بندی برقرار ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز اب بھی تہران کے کنٹرول میں ہے اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں، جس سے دوبارہ کشیدگی بھڑکنے کا خطرہ موجود ہے۔
مائیک ہکابی نے تل ابیب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں متحدہ عرب امارات، جو معاہدہ ابراہمی کا پہلا رکن ہے، کے لیے تعریفی کلمات کہنا چاہتا ہوں۔ صرف فوائد کو دیکھیے۔ اسرائیل نے ابھی انہیں آئرن ڈوم بیٹریاں اور انہیں چلانے کے لیے عملہ بھیجا ہے۔‘
متحدہ عرب امارات  نے مائیک ہکابی کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
مائیک ہکابی نے مزید کہا کہ انہیں قوی امید ہے کہ خطے کے مزید ممالک جلد معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوں گے۔ یہ 2020 کا سفارتی معاہدہ تھا جس کے تحت بحرین سمیت کئی عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ رسمی تعلقات قائم کیے تھے۔
تاہم، بہت سے عرب ممالک اب بھی اسرائیل کی وسیع فوجی کارروائیوں پر شدید غصے میں ہیں، جو حماس کے 2023 کے حملے کے بعد شروع ہوئیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی تباہ ہو چکا ہے جبکہ ایران کے اتحادیوں کو بھی مشرقِ وسطیٰ بھر میں نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل اب لبنان اور شام کے کچھ علاقوں پر بھی کنٹرول رکھتا ہے۔
مائیک ہکابی نے کہا کہ ’خلیجی ممالک اب سمجھ چکے ہیں کہ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان پر حملے کا زیادہ امکان ایران کی جانب سے ہے یا اسرائیل کی طرف سے؟ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل نے ہماری مدد کی جبکہ ایران نے ہم پر حملہ کیا۔ اسرائیل آپ کی زمین پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی آپ کی طرف میزائل بھیج رہا ہے۔‘

شیئر: