خیبرپختونخوا: لکی مروت میں خودکش حملے میں نو افراد جان سے گئے، 37 زخمی
پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ہونے والے خود کش حملے میں نو افراد جان سے گئے جنکہ 37 زخمی ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں دھماکہ خیز مواد سے بھری تین پہیوں والی گاڑی میں سوار ایک خودکش حملہ آور نے پھاٹک کے قریب اپنے آپ کو اڑا دیا جس میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوگئے۔
روئٹرز نے ریسکیو 1122 کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سرائے نورنگ کے مرکزی چوک میں واقع بازار میں ہونے والے دھماکے میں نو افراد ہلاک جبکہ 37 زخمی ہوئے ہوئے ہیں۔
ادارے کے بیان کے مطابق، شدید زخمیوں کو فوری طور پر بنوں کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ٹی ایچ کیو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ محمد اسحاق نے بتایا کہ اب تک 37 زخمیوں کو ہسپتال لایا جا چکا ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل لکی مروت سے ملحق ضلع بنوں میں ایک اور خودکش حملے میں کار بم ایک چیک پوسٹ پر دھماکے سے پھٹ گیا تھا، جس کے بعد شدت پسندوں نے پولیس پر فائرنگ کر دی تھی۔ اس حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سینئر پولیس افسر محمد سجاد خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق مشتبہ خودکش حملہ آور نے چیک پوسٹ پر تعینات دو ٹریفک پولیس اہلکاروں کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز ملک میں تعینات افغان سفارتکار کو طلب کیا تھا، جب تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ہفتے کے روز ہونے والے مہلک خودکش حملے کی منصوبہ بندی ’افغانستان میں موجود دہشت گردوں‘ نے کی تھی۔
افغان طالبان کی حکومت بارہا پاکستان کے ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے کہ افغان سرزمین شدت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات حالیہ مہینوں میں مسلح جھڑپوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، جن میں افغانستان کے شہروں پر پاکستانی فضائی حملے بھی شامل ہیں۔
