بنگلہ دیش نے پاکستان کو ڈھاکہ ٹیسٹ میں 104 رنز سے شکست دے دی ہے۔
منگل کو پہلے ٹیسٹ میچ کے آخری روز بنگلہ دیش کے 268 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان ٹیم کو دوسری اننگز میں شدید مشکلات کا سامنا رہا اور پاکستان کی پوری ٹیم 163 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
اس سے قبل بنگلہ دیش نے اپنی دوسری اننگز 240 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر دی تھی جبکہ پاکستان کو ٹیسٹ جیتنے کے لیے 268 درکار تھے۔
مزید پڑھیں
-
مچل سٹارک ٹیسٹ کرکٹ کے کامیاب ترین لیفٹ آرم فاسٹ بولرNode ID: 897972
پاکستان کی دوسری اننگز
دوسری اننگز میں پاکستان کی جانب سے عبداللہ فضل نے سب سے زیادہ 66 رنز بنائے، انہوں نے 113 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 11 چوکے بھی لگائے۔
سلمان علی آغا 26 رنز کے ساتھ دوسرے نمایاں بیٹر رہے جبکہ اذان اویس، سعود شکیل اور محمد رضوان نے 15، 15 رنز سکور کیے۔
کپتان شان مسعود صرف دو رنز بنا سکے جبکہ امام الحق بھی صرف دو رنز پر آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد نعمان علی چار، حسن علی ایک اور شاہین شاہ آفریدی کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے۔ اسی طرح سے محمد عباس پانچ رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے ناہید رانا نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ تسکین احمد اور تیج الاسلام نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ مہدی حسن مرزا نے ایک وکٹ اپنے نام کی۔
بنگلہ دیش کی دوسری اننگز
دوسری اننگز میں بنگلہ دیش کی جانب سے نجم الحسین شانتو نے 87 اور مومن الحق 56 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
بنگلہ دیش نے ٹیسٹ کے پانچویں روز دوسری اننگز 152 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے شروع کی۔
پانچویں دن کے آغاز پر بنگلہ دیش کی چوتھی وکٹ 164 رنز پر گری، مشفیق الرحیم 22 رنز بنا کر حسن علی کا شکار بنے۔
بنگلہ دیش کی پانچویں وکٹ 190 رنز پر گری، لٹن ڈاس کو 11 رنز پر شاہین شاہ آفریدی نے آؤٹ کیا۔
پاکستان کی جانب سے نعمان علی اورحسن علی نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ شاہین آفریدی نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

واضح رہے کہ پہلی اننگز میں بنگلہ دیش کی ٹیم 413 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی تھی، نجم الحسن شانتو 101، مومن الحق 91 اور مشفیق الرحیم 71 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
پاکستان کے محمد عباس نے پانچ اور شاہین آفریدی نے تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ نعمان علی اور حسن علی نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
قومی ٹیم پہلی اننگز میں 386 رنز پر آؤٹ ہو گئی اور یوں بنگلہ دیش کو پہلی اننگز میں 27 رنز کی برتری حاصل ہو گئی تھی۔
اذان اویس نے شاندار 103 رنز سکور کیے تھے، عبداللّٰہ فضل 60، محمد رضوان 59 اور سلمان علی آغا 58 رنز کے ساتھ نمایاں رہے تھے۔
دیگر بیٹرز میں امام الحق نے 45 جبکہ شاہین شاہ آفریدی نے 13 رنز بنائے تھے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے مہدی حسن میراز نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں جبکہ تسکین احمد اور تیج الاسلام نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پاکستان کی شکست پر مختلف آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ایکس صارف شیر علی نے لکھا کہ ’ہر شکست سر شان مسعود کی قیادت میں ہوئی۔‘
BANGLADESH vs PAKISTAN IN THE LAST 3 TESTS
- Bangladesh won by 10 wickets.
- Bangladesh won by 6 wickets.
- Bangladesh won by 104 runs.All defeats under Sir Shan Masood Captaincy.#PAKvBAN pic.twitter.com/UmfNqvWsek
— (@Sher__Ali) May 12, 2026
روی کمار سنہا نے لکھا کہ ’پاکستان کے ہارنے کی خواہش اس قدر زیادہ تھی کہ اس نے اُس ٹیسٹ میچ میں بھی شکست تلاش کر لی جو ڈرا کی جانب بڑھ رہا تھا۔‘
Pakistan's desire to lose is so great that they sought out defeat even in a Test match that was heading for a draw.#BANvsPAK #PakistanCricket
pic.twitter.com/eYgWgAPijB— Ravi Kumar Sinha (@ravikumarsinha_) May 12, 2026
ایک اکاؤنٹ نے لکھا کہ ’بنگلہ دیش پاکستان سے قدرے بہتر ٹیم ہے۔‘
Bangladesh is much better team than Pakistan #BANvPAKpic.twitter.com/KFCCjEEAmz
— Digital Hunt 247 (@digitalhunt247) May 12, 2026
صارف امجد نے لکھا کہ ’جب رضوان گیند چھوڑتے ہیں تو وہ ’صدی کا لیو‘ بن جاتا ہے، اور جب وہ حملہ کرتے ہیں تو وہ ’صدی کی وکٹ‘ بن جاتا ہے۔‘
When Rizwan leaves the ball..
It becomes "Leave of the century"When he tries to attack the ball..
It becomes "Wicket of the century" #PakvsBan #cricket pic.twitter.com/deKKRy0RHl— Amjad (@Amjadcricz) May 12, 2026
فیضان اسلم نے لکھا کہ ’پوچھنا یہ تھا کہ ٹیسٹ ٹیم کی ابتر کارکردگی پر شکریہ کس کا ادا کرنا ہے؟‘
پوچھنا یہ تھا پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ابتر کارکردگی پر شکریہ کس کا ادا کرنا ہے؟؟#PakvsBan pic.twitter.com/UDXooHiD8Z
— Muhammad Faizan Aslam Khan (@FaizanBinAslam1) May 12, 2026












