Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جب ماجد نے انگلش ٹیم کے چھکے چُھڑائے

ماجد خان نے 93 گیندوں پر 117.20 کے سٹرائیک ریٹ سے 109 رنز بنائے (فوٹو: سپورٹس) کریزی)
پاکستان نے انڈیا کے خلاف 1952 میں لکھنؤ میں اپنی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ جیتا۔ یہ پاکستان کا دوسرا ٹیسٹ میچ تھا۔
اس میچ میں نذر محمد نے پاکستان کی طرف سے پہلی ٹیسٹ سنچری بنانے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ ٹیسٹ کی طرح ون ڈے میں بھی پاکستان کو پہلی کامیابی کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور اس نے 31 اگست 1974 میں ٹرینٹ برج  میں انگلینڈ کو اپنے دوسرے ون ڈے میں ہرا کر پہلی کامیابی حاصل کرلی۔
ماجد خان نے اس نئے فارمیٹ میں اپنے ملک کی طرف سے پہلی سنچری بنائی۔ ان کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے 244 رنز کا ہدف تین وکٹوں کے نقصان پر 42.5 اوورز میں حاصل کر لیا۔
موسم کی خرابی کے باعث روشنی کم تھی لیکن ماجد خان کو اس سے خاص فرق نہیں پڑا، انھوں نے دل کش انداز میں، تیز رفتاری سے 93 گیندوں پر 117.20 کے سٹرائیک ریٹ سے 109 رنز بنائے جو جدید دور میں بھی ون ڈے کرکٹ کے تقاضوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
وزڈن‘ نے اس اننگز کو سراہتے ہوئے لکھا کہ انگلینڈ کے بولر ماجد خان کے سامنے بے بس نظر آئے۔ اس وقت فیلڈنگ کے سلسلے میں پابندیاں لاگو نہیں ہوتی تھیں اور فیلڈروں کا جال بچھانے میں کپتان کی مرضی کو ہی دخل تھا لیکن وہ دن ماجد خان کا تھا، اس روز اس سیل رواں کے آگے کوئی بند نہیں باندھ سکا۔

سابق کپتان عمران خان نے بھی ماجد خان کی کارکردگی کو سراہا (فوٹو: فیس بک)

انھوں نے صادق محمد کے ساتھ مل کر 18.2 اوورز میں 113 رنز کا اوپننگ سٹینڈ دیا۔ ساتھی اوپنر کے آﺅٹ ہونے کے بعد ظہیر عباس کے ساتھ مل کر سکور آگے بڑھایا۔ آﺅٹ ہوئے تو اس وقت میچ پر پاکستان پوری طرح حاوی تھا۔ انگلینڈ کے بولروں کا مورال ڈاﺅن ہوچکا تھا۔
ماجد خان کی یہ اننگز وہ تھی جسے مدتوں بھلایا نہ جاسکے۔ عمران خان جن کا یہ پہلا ون ڈے میچ تھا انھوں نے آپ بیتی ’آل راﺅنڈ ویو‘ میں اس اننگز کو ’ماجد خان کی بہترین اننگزوں میں سے ایک قرار دیا جس میں انگلینڈ کے بولروں باب ولس، پیٹر لیور، کرس اولڈ، انڈروڈ اور ٹونی گریگ کی بولنگ پر انھوں نے وکٹ کے چاروں طرف سٹروکس کھیلے۔
ممتاز کرکٹ کمنٹیٹر اور رائٹر جان آرلٹ نے اسے انگلینڈ کی سرزمین پر کھیلی جانے والی بہترین اننگزوں میں سے ایک قرار دیا۔ اس سے ملتے جلتے خیالات انگلینڈ کے سابق ٹیسٹ کرکٹر آر ٹی سمپسن کے بھی تھے۔
معروف کرکٹ رائٹر ڈیوڈ فریتھ نے لکھا کہ ماجد خان اس طرح کھیل رہے تھے جیسے کوئی چیرٹی میچ ہو۔ اس اننگز کی تحسین کرنے والوں میں ظہیر عباس اور عمر قریشی بھی شامل ہیں۔

پاکستان نے انڈیا کے خلاف 1952 میں لکھنؤ میں اپنی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ جیتا (فوٹو: سکرول لائن)

 انگلینڈ کی طرف سے  ڈیوڈ لائیڈ جو اِس وقت نامور کرکٹ مبصر ہیں انھوں نے اس میچ میں سنچری بنائی لیکن انگلینڈ کی ہار اور ماجد خان کی شاندار سنچری نے اسے گہنا دیا۔ کرکٹ میں بعض دفعہ کھلاڑی ایسی عمدہ  پرفارمنس دکھاتا ہے کہ اس کے سامنے باقی سب کچھ ماند پڑ جاتا ہے۔
شاہد آفریدی نے جس میچ میں سری لنکا کے خلاف 37 گیندوں پر سنچری بنائی اس میں سعید انور اور ارونڈا ڈی سلوا نے بھی سنچری کی تھی، آفریدی کی سنچری کرکٹ شائقین کے حافظے سے نہیں اتری جبکہ باقی دو سنچریوں کی یاد معدوم ہوچکی ہے۔
 دوسرے ون ڈے میچ میں پاکستان نے انگلینڈ  کو 81 رنز پر آﺅٹ کرکے میچ باآسانی آٹھ وکٹوں سے جیت کر سیریز دو صفر سے اپنے نام کرلی۔

بین الاقوامی کھلاڑیوں نے بھی ماجد خان کی کارکردگی کو سراہا (فوٹو: کرکٹ کنٹری)

انگلنیڈ کے اس دورے میں پاکستانی ٹیم کے کپتان انتخاب عالم تھے۔ اس سیریز کے تینوں ٹیسٹ میچ ڈرا ہوئے۔
سر ڈان بریڈمین کی کپتانی میں 1948 میں دورہ کرنے والی آسٹریلوی ٹیم جسے ’The Invincibles‘ کہا گیا، اس کے بعد یہ پاکستانی ٹیم تھی جسے کسی فرسٹ کلاس میچ میں شکست نہیں ہوئی۔ سونے پہ سہاگا یہ ہوا کہ پاکستان نے دونوں ون ڈے میچوں میں بھی میزبان ٹیم کو بڑی آسانی سے ہرا دیا۔

شیئر:

متعلقہ خبریں