Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ

آسٹریلین سکواڈ جس نے 1877 میں انگلینڈ کے خلاف تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ فوٹو: وکی پیڈیا
15 مارچ 1877 کو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے مابین کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ شروع ہوا۔ میلبورن میں کھیلے گئے اس میچ میں میزبان ٹیم آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 45 رنز سے شکست دی۔
دلچسپ بات ہے کہ 1977 میں ٹیسٹ کرکٹ کے سو سال ہونے کی مناسبت سے میلبورن میں منعقدہ صد سالہ ٹیسٹ میچ میں بھی آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 45 رنز سے ہرایا۔
 1971میں بین الاقوامی سطح پر ون ڈے کرکٹ کی صورت میں نیا فارمیٹ متعارف ہوا تو اس کے پہلے مقابلے میں بھی آسٹریلیا نے انگلینڈ کو پچھاڑ دیا۔ اتفاق کی بات ہے پہلے ٹیسٹ کی طرح پہلا ون ڈے میچ بھی میلبورن میں کھیلا گیا۔

 

پہلے کرکٹ ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ انگلینڈ کے الفرڈ شا نے پہلی گیند کی جس کا سامنا چارلس بینر مین نے کیا۔ پہلا رن بھی انھوں نے بنایا اور پہلی ٹیسٹ سنچری کا اعزاز بھی انہی کے حصے میں آیا۔ کوئی بولر انھیں آﺅٹ نہ کرسکا۔ 165 کے سکور پر انگلی زخمی ہونے کی وجہ سے وہ ریٹائرڈ ہرٹ ہوئے۔ اننگز کے آغاز میں ان کا آسان کیچ گرانا انگلینڈ کو خاصا مہنگا پڑا۔

چارلس بینرمین نے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میں 165 رنز بنائے۔ فوٹو: سپورٹس سکیڈا

ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی وکٹ ایلن ہل نے ناٹ تھامسن کو آﺅٹ کرکے حاصل کی۔ آسٹریلیا کے 245 رنز کے جواب میں انگلینڈ کی ٹیم 196رنز بنا پائی۔ آسٹریلیوی بولر مڈ ونٹر اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے باﺅلر بنے۔ بعد ازاں انھوں نے آسٹریلیا اور انگلینڈ دونوں ملکوں کی نمائندگی کی اور بالترتیب آٹھ اور چار ٹیسٹ میچ کھیلے۔
 1878 میں مڈ ونٹر کو ڈبلیو جی گریس نے ڈریسنگ روم سے اس وقت اغوا کیا جب آسٹریلیوی ٹیم مڈل سیکس کے خلاف میچ کھیل رہی تھی۔ گریس چاہتے تھے کہ وہ اس میچ میں حصہ لینے کے بجائے سرے کے خلاف گلوسٹر شائر کی نمائندگی کریں۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ گریس بڑے کھلاڑی ہی نہیں دھونس سے کام لینا بھی خوب جانتے تھے۔ یاد رہے کہ گریس اپنی تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے تاریخِ کرکٹ کا پہلا ٹیسٹ کھیلنے سے محروم رہے تھے۔
 ہاں تو بات ہو رہی تھی پہلے ٹیسٹ میچ کی، آسٹریلیا نے 49 رنز کی برتری کے ساتھ دوسری اننگز شروع کی، اس کا کوئی بیٹسمین جم کر نہ کھیل سکا اور پوری ٹیم 104 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ الفرڈ شا نے پانچ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
انگلینڈ کو جیت کے لیے 154 رنز کا ہدف ملا جس کا حصول مشکل نہ تھا، اس کے پاس تاریخ رقم کرنے کا سنہری موقع تھا لیکن تھامس کنڈل کی عمدہ بولنگ کے سامنے بیٹسمین بے بس نظر آئے ۔ انھوں نے سات کھلاڑی آﺅٹ کرکے اپنی ٹیم کو تاریخ ساز فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

الفرڈ شا نے پانچ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ فوٹو: کرکٹ نیکسٹ

انگلینڈ کے جیمز ساﺅتھرٹن اس تاریخی سکواڈ کا حصہ بنے تو ان کی عمر 49 سال 119 دن تھی۔ وہ موت سے ہمکنار ہونے والے پہلے ٹیسٹ کرکٹر تھے۔
پہلے دن ٹیسٹ میچ دیکھنے کے لیے تقریباً 4500 تماشائی آئے۔ تیسرے دن سب سے زیادہ یعنی تقریباً دس ہزار افراد نے میچ دیکھا۔ 
 پہلے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کی کامیابی کو حیران کن قرار دیا گیا۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم جان میجر نے کرکٹ پر اپنی نہایت عمدہ کتاب More Than a Game: The Story of Cricket's Early Years میں لکھا ہے کہ اس جیت کو غیر معمولی کہنا درست ہے کہ میزبان ٹیم اپنے تین عمدہ بولروں کے بغیر میدان میں اتری لیکن پھر بھی فتح یاب ہوئی۔
فرینک ایلن اور ایونز ان فٹ تھے جبکہ سٹار فاسٹ بولر سپوفورتھ، وکٹ کیپر کی سلیکشن کے معاملے میں اختلاف کی وجہ سے میچ نہیں کھیلے۔
آسٹریلین ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کرنے والے بینرمین ، کنڈل اور مڈ ونٹر تینوں انگلینڈ میں پیدا ہوئے تھے۔ انگلینڈ کو پہلے ٹیسٹ میں ہرانے سے آسٹریلیا کا حوصلہ بلند ہوا۔

آستڑیلین ٹیم میں احساس پیدا ہوا کہ آسٹریلوی کھلاڑی کسی طور انگلینڈ کے کھلاڑیوں سے کمتر نہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

انگلینڈ نے دوسرا ٹیسٹ جیت کر شکست کا بدلا لے لیا اور پہلے ٹیسٹ میں اپنی ہار کو مخالف ٹیم کی بہتر کارکردگی کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے اسے تُکا قرار دیا۔
دوسری طرف آسٹریلیا کے لیے انگلینڈ سے جیتنا کوئی خیالی بات نہ رہی تھی کہ اس نے بیچ میدان اپنی برتری ثابت کی، ان کے یہاں یہ احساس پیدا ہوا کہ آسٹریلوی کھلاڑی کسی طور انگلینڈ کے کھلاڑیوں سے کمتر نہیں۔
 دونوں ملکوں کے درمیان اس سیریز سے جس مسابقت کا آغاز ہوا اسی سے تھوڑے عرصے بعد تاریخی ایشزسیریز نے جنم لیا، جس میں کامیابی کے لیے دونوں ٹیمیں اب بھی برسر پیکار ہوتی ہیں۔

شیئر: