Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

 تحسین محمد جمشید: کیرالہ کی جڑیں، قطر کی جرسی اور فٹ بال کی نئی تاریخ

تحسین محمد جمشید اُن چند انڈین نژاد فٹ بالرز میں شامل ہیں جنہوں نے فیفا ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کی ہے (فائل فوٹو: تحسین انسٹاگرام)
یہ سنہ 1950 کی بات ہے جب پہلی بار انڈیا کو بغیر کوئی کوالیفائی میچ کھیلے ورلڈ کپ میں داخلہ ملا تھا کیونکہ فلپائن، انڈونیشیا اور برما نے اپنا نام واپس لے لیا تھا، تاہم انڈین فٹبال فیڈریشن نے کئی وجوہات کی بنا پر ایونٹ میں شرکت سے معذوری ظاہر کی۔
اس کے بعد سے انڈین ٹیم کبھی بھی اس سطح پر نہ پہنچ سکی اور فٹ بال کا جُنون پہلے ہاکی اور پھر کرکٹ میں منتقل ہو گيا۔
پھر سنہ 2006 میں ایک انڈین نژاد کھلاڑی نے موریشیئس کے راستے فرانس کی ٹیم میں جگہ بنائی لیکن رواں سال امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں جاری فٹ بال ورلڈ کپ میں کئی انڈین نژاد کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔
اس بار ان میں سے ایک انڈین ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے فارورڈ کھلاڑی تحسین محمد جمشید ہیں۔
ان کی کہانی فٹ بال کی دنیا میں ان بعض کہانیوں میں شامل ہے جو صرف کھیل تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ہجرت، شناخت، خواب اور محنت کی داستان بن جاتی ہیں۔
19 سال کے تحسین نے قطر کی قومی ٹیم میں جگہ بنا کر نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ تاریخ بھی رقم کی۔ 
وہ انڈین پس منظر رکھنے والے ان چند کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے فیفا ورلڈ کپ کے سٹیج تک رسائی حاصل کی ہے۔
تحسین کے والدین کا تعلق بھی انڈین ریاست کیرالہ کے ضلع کنور سے ہے۔ ان کے والد جمشید تھکچن کنڈی کبھی کالیکٹ یونیورسٹی کے فٹ بالر رہے جبکہ والدہ بھی کیرالہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ 
یہ خاندان 1990 کی دہائی میں قطر منتقل ہوا اور تحسین کی پرورش دوحہ میں ہوئی۔ بچپن ہی سے انہیں فٹ بال سے غیر معمولی لگاؤ تھا اور والد نے اُن کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تحسین کی اصل تربیت قطری فٹ بال نظام کی ’ریڑھ کی ہڈی‘ ایسپائر اکیڈمی میں ہوئی (فائل فوٹو: ایسپائر اکیڈمی ویب سائٹ)

ان کی اصل تربیت قطر کی معروف ایسپائر اکیڈمی میں ہوئی، جو قطر کے فٹ بال نظام کی ’ریڑھ کی ہڈی‘ سمجھی جاتی ہے۔ 
اسی اکیڈمی نے کئی بین الاقوامی کھلاڑی پیدا کیے ہیں۔ تحسین نے کم عمری ہی میں اپنی رفتار، ڈربلنگ اور تخلیقی کھیل سے کوچز کو متاثر کیا۔  
دکن ہیرلڈ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے قطر کی انڈر 17 اور انڈر 19 ٹیموں کی نمائندگی کی اور بتدریج قومی ٹیم کے دروازے اُن پر کھلتے گئے۔
تحسین بطور ونگر کھیلتے ہیں اور ان کی سب سے بڑی خوبی گیند پر شاندار کنٹرول اور تیز رفتاری سمجھی جاتی ہے۔ وہ قطر سٹارز لیگ کے معروف کلب الدحیل ایس سی سے وابستہ ہیں۔ 
سنہ 2024 میں انہوں نے قطر سٹارز لیگ میں قدم رکھا اور انڈین نژاد پس منظر رکھنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے اس لیگ میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔
مئی 2024 میں فٹ بال حلقوں میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب تحسین کو قطر کی سینیئر قومی ٹیم کے سکواڈ میں شامل کیا گیا۔ 

تحسین کا نام اُس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا جب انہیں قطر کے فیفا ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کیا گیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یہ وہ لمحہ تھا جس نے اُنہیں سُرخیوں میں لا کھڑا کیا۔ بعد ازاں افغانستان کے خلاف میچ میں انہوں نے قطر کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر ڈیبیو کیا اور انڈین نژاد کھلاڑی کے طور پر قطر کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے پہلے فٹ بالر بن گئے۔
سنہ 2026 میں ان کا نام ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا جب انہیں قطر کے فیفا ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کیا گیا۔ 
اس انتخاب کو نہ صرف قطر بلکہ کیرالہ کے فٹ بال شائقین نے بھی تاریخی کامیابی قرار دیا۔ رپورٹس کے مطابق وہ قطر کے ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل ہونے والے پہلے ملیالی نژاد فٹ بالر بن گئے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحسین کی کامیابی پر سوشل میڈیا میں مختلف ردِعمل سامنے آئے اور کئی لوگوں نے اسے انڈین نژاد نوجوان کی عالمی سطح پر کامیابی قرار دیا۔
بعض مبصرین نے یاد دلایا کہ وہ قطر میں پیدا ہوئے، وہیں تربیت پائی اور قطر کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس بحث کے باوجود قریباً سبھی اس بات پر متفق نظر آئے کہ اُن کی کامیابی نوجوان فٹ بالرز کے لیے ایک مثال ہے۔

تحسین محمد جمشید کے والدین 1990 کی دہائی میں انڈین ریاست کیرالہ سے قطر منتقل ہوئے (فائل فوٹو: اے پی)

کیرالہ سے کانگریس کے رکنِ پارلیمان ششی تھرور نے تحسین محمد جمشید کے فیفا ورلڈ کپ 2026 سکواڈ میں انتخاب کو ’انڈین فٹ بال شائقین کے لیے ایک تاریخی لمحہ‘ قرار دیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انہوں نے لکھا کہ ’انڈین فٹ بال شائقین کے لیے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ہم انڈیا سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑیوں کو عالمی سٹیج پر کھیلتا دیکھیں گے۔‘
انہوں نے خاص طور پر تحسین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’19 سال کے ونگر تحسین محمد جمشید قطر کی قومی ٹیم کے لیے منتخب ہونے والے پہلے انڈین نژاد کھلاڑی بن گئے ہیں اور وہ اپنے خاندان کی کنور (کیرالہ) سے وابستگی کے فخر کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔‘
ششی تھرور نے یہ بھی یاد دلایا کہ اگرچہ انڈیا خود ورلڈ کپ 2026 میں شریک نہیں ہے، لیکن انڈین نژاد کھلاڑیوں کی موجودگی انڈین فٹ بال شائقین کے لیے باعثِ فخر ہے۔‘

 ششی تھرور کے مطابق قطری سکواڈ میں تحسین کی شمولیت ’انڈین فٹ بال شائقین کے لیے تاریخی لمحہ‘ ہے (فائل فوٹو: اے این آئی)

انہوں نے آسٹریلیا کے انڈین نژاد کھلاڑی نشان ویلوپلّے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ’دونوں کھلاڑی عالمی سطح پر انڈیا کے ورثے کی نمائندگی کریں گے۔‘
ششی تھرور نے مزید لکھا کہ ’تحسین کی کہانی اس حقیقت کو بھی اُجاگر کرتی ہے کہ عالمی فٹ بال میں جدید تربیتی ڈھانچے، مستقل کوچنگ اور پیشہ ورانہ ماحول کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔‘
 کیرالہ میں فٹ بال کے بے پناہ شوق کے باوجود وہاں سے ورلڈ کپ سکواڈ تک پہنچنے والا کوئی کھلاڑی پہلے سامنے نہیں آیا تھا، جبکہ قطر کے منظم نظام نے ایک انڈین نژاد نوجوان کو دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ایونٹ تک پہنچا دیا۔
آج تحسین محمد جمشید صرف ایک فٹ بالر نہیں بلکہ دو ملکوں کے درمیان ثقافتی اور کھیلوں کے رشتے کی علامت بن چکے ہیں۔ 
اُن کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ صلاحیت اگر محنت اور مناسب مواقع کے ساتھ مل جائے تو سرحدیں معنی نہیں رکھتیں۔
 آنے والے برسوں میں فٹ بال شائقین کی نظریں اس نوجوان ونگر پر مرکوز رہیں گی، جو ابھی اپنے کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں ہے مگر پہلے ہی تاریخ کے صفحات میں اپنا نام درج کرا چکا ہے۔

شیئر: