ایران اور امریکہ معاہدے کے قریب، حتمی وقت کا تعین اب بھی غیر واضح
ایران اور امریکہ معاہدے کے قریب، حتمی وقت کا تعین اب بھی غیر واضح
اتوار 14 جون 2026 5:44
ایرانی حکام نے اتوار کو معاہدے پر دستخط کے بارے میں تصدیق نہیں کی ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ اور پاکستان کی قیادت نے پیش گوئی کی ہے کہ آج اتوار کو امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں تاہم ایران نے ٹائمنگ کے حوالے سے شک کا اظہار کیا ہے جبکہ سخت گیر ایرانی حلقے بھی معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
خبر رساں اداروں اے ایف پی اور روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ایران کے معاہدہ پر دستخط کے لیے اتوار کا روز طے کیا گیا ہے جو کہ ان کی سالگرہ کا بھی دن ہے۔
اسی طرح پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ فریقین امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں اور اسلام آباد اتوار کو الیکٹرانک دستخط کے لیے تیاری کر رہا ہے جس کے بعد آنے والے ہفتوں میں تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔
دوسری جانب ایران نے اتوار کو دستخط کے بارے میں تصدیق نہیں کی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صدر ٹرمپ کی پوسٹ سے قبل صحافیوں سے بات چیت میں وقت کے تعین کے حوالے سے خبردار کیا کیا تھا کہ ’یہ کل نہیں ہو گا تاہم آنے والے دنوں میں ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز کو سب کے لیے کھول دیا جائے گا۔
یہ ایک اہم تجارتی راستہ جس کو ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ چھڑنے کے بعد بند کر رکھا تھا۔
یہ نئی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں تازہ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
آٹھ اپریل کو دونوں ممالک کے درمیان جنگ رک گئی تھی، صدر ٹرمپ بار بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے تاہم اختلافات اور تاخیر کے باعث یہ معاملہ کھنچتا چلا گیا ہے۔
امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے خلاف ایران میں احتجاج
ایران میں امریکہ کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے خلاف ایران میں احتجاج سامنے آیا ہے جس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔
اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو ایران کے شمال مغربی شہر مشہد میں درجنوں افراد وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر جمع ہوئے، جو تھوڑی دیر قبل عباس عراقچی کے ٹی وی پر نشر ہونے والے اس انٹرویو پر برہم تھے جس میں انہوں نے امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کی بات کی تھی۔
ایرانی نیوز ایجنسی فارس کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں کالی چادریں اوڑھے ہوئے خواتین ’عباس عراقچی جاسوس اور مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہی ہیں جبکہ انہوں نے سرخ اور کالے رنگ کے جھنڈے بھی اٹھا رکھے تھے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اتوار کو دستخط کے بعد آبنائے ہرمز کو سب کے لیے کھول دیا جائے گا (فوٹو: اے ایف پی)
یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ثالث پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے معاہدے کو ایران کے سخت گیر حلقوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔
ان اصرار تھا کہ یہ معاہدہ ایران کے مفادات کے مطابق نہیں ہے اور اس سے تہران کو آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ اور دباؤ برقرار رکھنے کے اختیار سے محروم ہونا پڑے گا۔
ان کی جانب سے ایرانی مذاکرات کاروں پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے معاہدہ طے کروانے کے لیے حد سے زیادہ رعایتیں دیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ زیر غور معاہدے کے تحت ایرانی بندرگاہوں پر لگی امریکہ کی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی جو کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے ے جواب میں نافذ کی گئی تھی۔
امریکہ کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کو معاہدے کو ایران کے سخت گیر حملوں کی مخالفت کا سامنا ہے (فوٹو: روئٹرز)
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز کا نظام و انصرام اب پہلے جیسا نہیں رہے گا۔‘
انہوں نے آبی گزرگاہ کو ’ایران کو تحفظ دلانے والے اہم ذرائع میں سے ایک‘ بھی قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر موجود دوسری ویڈیوز جن کی اے ایف پی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کرا سکا، میں لوگ وزارت خارجہ کی عمارت کے باہر ’عراقچی استعفیٰ دو، قالیباف استعفیٰ دو‘ کے نعرے بھی لگا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر اتوار کو دستخط ہو سکتے ہیں جبکہ ایران وقت کے حوالے سے محتاط دکھائی دیا۔