ایران میں درجنوں افراد کا امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے خلاف احتجاج: مقامی میڈیا
ایران میں درجنوں افراد کا امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے خلاف احتجاج: مقامی میڈیا
اتوار 14 جون 2026 5:44
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار (آج) کو امن معاہدے پر دستخط کی امید ظاہر کی تھی (فوٹو: اے پی)
ایران میں امریکہ کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج سامنے آیا ہے جس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔
اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو ایران کے شمال مغربی شہر مشہد میں درجنوں افراد وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر جمع ہوئے، جو تھوڑی دیر قبل عباس عراقچی کے ٹی وی پر نشر ہونے والے اس انٹرویو پر برہم تھے جس میں انہوں نے امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کی بات کی تھی۔
ایرانی نیوز ایجنسی فارس کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں کالی چاردریں اوڑھے ہوئے خواتین ’عباس عراقچی جاسوس اور مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہی ہیں جبکہ انہوں نے سرخ اور کالے رنگ کے جھنڈے بھی اٹھا رکھے تھے۔
یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ثالث پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے معاہدے کو ایران کے سخت گیر حملوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔
ان اصرار تھا کہ ی معاہدہ ایران کے مفادات کے مطابق نہیں ہے اور اس سے تہران کو آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ اور دباؤ برقرار رکھنے کے اختیار سے محروم ہونا پڑے گا۔
ان کی جانب سے ایرانی مذاکرات کاروں پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے معاہدہ طے کروانے کے لیے حد سے زیادہ رعایتیں دیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ زیر غور معاہدے کے تحت ایرانی بندرگاہوں پر لگی امریکہ کی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی جو کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے ے جواب میں نافذ کی گئی تھی۔
امریکہ کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کو معاہدے کو ایران کے سخت گیر حملوں کی مخالفت کا سامنا ہے (فوٹو: روئٹرز)
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز کا نظام و انصرام اب پہلے جیسا نہیں رہے گا۔‘
انہوں نے آبی گزرگاہ کو ’ایران کو تحفظ دلانے والے اہم ذرائع میں سے ایک‘ بھی قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر موجود دوسری ویڈیوز جن کی اے ایف پی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کرا سکا، میں لوگ وزارت خارجہ کی عمارت کے باہر ’عراقچی استعفیٰ دو، قالیباف استعفیٰ دو‘ کے نعرے بھی لگا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر اتوار کو دستخط ہو سکتے ہیں جبکہ ایران وقت کے حوالے سے محتاط دکھائی دیا۔