Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیب کے ریڈار پر کون کون سے اپوزیشن رہنما ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق نیب کی تنظیم نو کی ضرورت ہے تاکہ یہ ادارہ اپنی ساکھ بحال کر سکے۔ فوٹو: اے پی پی
یوں تو اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے  درجنوں رہنما پہلے بھی قومی احتساب بیورو (نیب) کے کیسز کا سامنا کر رہے تھے مگر جب سے اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی)  میں حکومت کے خلاف اپوزیشن نے احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے اپوزیشن کے مزید رہنماوں کو بھی نیب کی طرف سے تحقیقات کے نوٹسز ملنا شروع ہو چکے ہیں۔
جہاں اپوزیشن رہنما یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ حکومت نیب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر رہی ہے وہیں نیب کی جانب سے تواتر کے ساتھ دعویٰ سامنے آ رہا ہے کہ احتساب بیورو فیس (چہرہ) نہیں کیس دیکھتا ہے اور تمام تر اقدامات ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ترجمان بھی یہی موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ اپوزیشن رہنماوں کے خلاف نیب کیسز ان کی مبینہ کرپشن کا نتیجہ ہیں اور حکومت کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حالیہ چند دنوں میں نیب کارروائیاں

حکومتی رہنماؤں اور نیب کی وضاحت کے باجود اتفاق سے  اے پی سی کے چند دنوں بعد ہی الیکٹرانک میڈیا میں یہ خبر سامنے آئی کہ اپوزیشن جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو نیب خیبر پختونخوا نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں طلب کر لیا ہے۔ اسی دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو نیب نے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں لاہور سے گرفتار کر لیا جبکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی نیب روالپنڈی نے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن خالد سجاد کھوکھر کی تقرری کے کیس میں طلب کر لیا۔
اے پی سی کے بعد نیب کی جانب سے طلب کیے جانے والے سیاستدانوں میں تازہ ترین نام مسلم لیگی رہنما خواجہ محمد آصف کا ہے۔ 
دوسری طرف مقامی میڈیا کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی نیب خیبر پختونخوا نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں طلب کرلیا ہے۔

پاکستان میں اپوزیشن جماعتیں نیب کے چیئرمین جاوید اقبال پر بھی تنقید کرتی ہیں۔ فوٹو: اے پی پی

حالیہ دنوں میں ہی نیب کے پی نے مولانا فضل الرحمن کے قریبی ساتھی موسیٰ خان کو بھی  آمدن سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق انکوائری کے لیے گرفتار کر لیا ہے۔ موسیٰ خان سابق ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر رہے ہیں اور ان کے ایک بیٹے محمد طارق مولانا فضل الرحمان کے پرائیویٹ سیکرٹری ہیں۔

نیب کیسز کا سامنا کرنے والے اپوزیشن رہنما

 پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں احتساب اور کرپشن کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب سے وزیراعظم عمران خان کی حکومت آئی ہے تو نیب کی طرف سے دو سابق وزرائے اعظم، اور ایک وزیراعلیٰ سمیت درجن بھر سیاسی رہنما گرفتار کیے گئے جن میں سے اکثر اب رہا ہو چکے ہیں۔
تاہم نیب کے ریڈار پر اب بھی درجنوں سیاستدان ہیں جن کے خلاف تحقیقات مختلف مراحل پر ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور  پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ہیں۔ نیب کیسز کا سامنا کرنے والے مسلم لیگ ن کے رہنماوں میں پارٹی کے قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف کے علاوہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، حمزہ شہباز، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، مفتاح اسماعیل، خواجہ آصف، کیپٹن صفدر شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پر آمدن سے زائد اثاثوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کر ریفرنسز ہیں۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں نیب کی تحویل میں ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

نیب کیسز کا سامنا کرنے والے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں میں سابق صدر آصف زرداری ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو، سابق صدر کی بہن فریال تالپور، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم پرویز اشرف، خورشید شاہ  اور آغا سراج درانی شامل ہیں۔

حکومتی رہنماؤں کے خلاف بھی نیب کیسز مگر سست پیش رفت

گو یہ درست ہے کہ نیب نے جتنی تعداد اور تواتر سے  اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف  کارروائیاں  کی ہیں اس کا موازنہ ادارے کی حکومتی رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں سے نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ کہنا غلط ہو گا کہ نیب نے کسی بھی حکومتی رہنما کے خلاف انکوائری نہیں کی۔
نیب کے صوبائی دفاتر نے متعدد حکومتی رہنماؤں کے خلاف بھی انکوائریاں کی ہیں اور ان میں چند گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔
نیب کے ایک ترجمان کے مطابق اس وقت بھی وفاقی کابینہ کے رکن غلام سرور خان کے خلاف  آمدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے  سابق وزیر صحت عامر کیانی کے خلاف ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے کیس کے علاوہ  وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کے خلاف وزارت کی عمارت غیر قانونی طریقے سے اپنے دوست کو ہائرنگ پر دینے کے کیسز بھی زیر تفتیش ہیں۔ نیب کے پی میں مالم جبہ کیس پر بھی تحقیقات ہوئیں جس میں مبینہ طور پرسابق وزیراعلیٰ کے پی اور موجود وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا بھی نام ہے۔

تاہم ان تمام کیسز میں کئی ماہ اور مالم جبہ کیس میں کئی سال گزرنے کے باجود نیب کی جانب سے کوئی پیش رفت یا گرفتاری سامنے نہیں آئی جس کی وجہ سے اپوزیشن رہنما یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ احتساب کا عمل یکطرفہ ہے۔

 نیب کے ایک ترجمان کے مطابق وفاقی  وزرا ایک بار بھی نیب میں تفتیش کے لیے طلب نہیں کیے گئے۔ 
 

سیاستدانوں کے خلاف مقدمات متنازع کیوں؟

قومی احتساب بیورو کے قیام کا مقصد ملک میں کرپشن کا خاتمہ اور شفافیت کا فروغ تھا تاہم اپنے قیام کے دو عشروں میں چند ملزمان سے لوٹی ہوئی رقم برآمد کرنے اور چند دیگر  کامیابیوں کے باجود یہ ادارہ  تنازعات کی زد میں رہا ہے۔ اور گو کہ قانون کے مطابق یہ حکومتی اثررسوخ سے آزاد ایک خودمختار ادارہ ہے مگر  ہر دور کی اپوزیشن نے اس پر یہی الزام عائد کیا ہے کہ یہ حکومتی ایما پر مخالفین کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ خاص طور پر سیاستدانوں کے متعلق نیب کیسز میں کوئی بڑی برآمدگی یا کامیابی سامنے نہیں آ سکی اور گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے بھی نیب کی کاردکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
اس حولے سے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے سابق نیب پراسیکیوٹر راجہ عامر عباس نے کہا کہ دیکھا جائے تو 1999 میں اپنے قیام سے لے کر آج تک شاید ہی ایسا ہوا ہو کہ نیب نے کسی سیاستدان سے ریکوری کی ہو یا کوئی ریفرنس سپریم کورٹ تک برقرار رہا ہو سوائے نواز شریف کیس کے جو کہ اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے۔
’اس کی وجہ یہ ہے کہ نیب سیاسی رہنماوں کے خلاف کیسز تو بنا لیتا ہے لیکن اس میں قانونی نقائص چھوڑ دیتا ہے ۔ مثلا سابق صدر زرداری کے خلاف ایک کیس میں وہ اس لیے بری ہو گئے تھے کہ نیب کے پاس اصل ریکارڈ تک نہیں تھا اور فوٹو کاپیوں کو عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ اسی طرح سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف  رینٹل پاور کیس بھی آٹھ سال چلتا رہا پھر بھی اس میں سے نیب کچھ نہیں نکال سکا اور پھر وہ متعدد کیسز میں بری ہو گئے۔
راجہ عامر عباس کے مطابق نیب کی پراسیکیوشن  میں خامی ہے جبکہ چیئرمین کے اختیارات کے باعث بھی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات میں مشکلات ہوتی ہیں۔ چیئرمین نیب کی تقرری سیاستدان ہی کرتے ہیں جس کے باعث ان کے حوالے سے سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔
سابق پراسیکیوٹر کے مطابق بظاہر نیب آزاد ادارہ ہے مگر ہر دور میں حکومتیں اسے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتی رہی ہیں اس لیے اپوزیشن کا گلہ کسی حد تک جائز ہے کہ کیا نیب کو حکومتی پارٹی سے وابستہ افراد میں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔
اس طرح نیب بڑے کارٹلز کے خلاف ابھی تک کوئی اہم کاروائی نہیں کر سکا۔ ایک پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف کچھ کاروائی ہوئی مگر وہ بھی سپریم کورٹ  کے حکم پر۔
راجہ عامر عباس کے مطابق نیب کی تنظیم نو کی ضرورت ہے تاکہ یہ ادارہ اپنی ساکھ بحال کر سکے۔

شیئر: