Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خوف کے باعث کوئی تیار نہیں تھا، اب نیب کا احتساب سینیٹ کرے گی‘

نیب کے مطابق ادارے کی تمام کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے (فوٹو: اے پی پی)
پاکستان کی سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ دسمبر کے وسط میں ایوان بالا میں ایک تحریک لائی جائے گی جس کے بعد نیب کے چیئرمین، ڈی جیز اور دیگر افسران کے پارلیمانی احتساب کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا جسے میڈیا کے سامنے رکھا جائے گا۔
اردو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ انہوں نے اس معاملے کو تب اٹھایا جب اپنا کیس سامنے آیا مگر پارلیمنٹ اور اس سے باہر خوف کے باعث کوئی بھی نیب کے خلاف بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
میرے خلاف کیس تو ڈیڑھ سال سے تھا مگر میں جب تک نہیں بولا جب تک نیب نے میڈیا کو میرے خلاف استعمال کرنا شروع نہیں کیا۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں بھی میڈیا میں جاوں گا اور نیب کی اصلیت سب کے سامنے لاوں گا۔
دوسری طرف اردو نیوز نے نیب کے ترجمان نوازش علی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی بیانات پر تبصرے کے مجاز نہیں ہیں تاہم نیب نے چند دن پہلے اپنے ایک وضاحتی اعلامیے میں کہا تھا کہ ادارے کی تمام کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے اور اس میں کسی شخص کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔
سلیم مانڈوی والا نے اردو نیوز کو بتایا کہ نیب کی جانب سے انہیں اور ان کے بھائیوں کو دانستہ طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جب کہ اصل میں ان کا نام بھی کیس میں براہ راست شامل نہیں تھا۔
’تاہم میرے کے بزنس پارٹنر اعجاز ہارون کو نیب نے گرفتار کیا اور مجھ سے کہا کہ انہیں پلی بارگین پر آمادہ کروں جس سے میں نے انکار کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان پر منی لانڈرنگ کا الزام لگایا جا رہا ہے مگر ہم نے تمام اکاؤنٹس کی تفصیلات دے دی ہیں اب بتایا جائے کہاں منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔ ’ہم نے منگلہ میں فوج کے ساتھ مل کر ایک پراجیکٹ کیا اس کے حوالے سے بتایا جائے کہ کہاں منی لانڈرنگ یا کرپشن ہوئی؟
ان سے سوال کیا گیا کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے سینٹ کے ممبر ہیں مگر انہوں نے نیب کے خلاف تب معاملہ کیوں اٹھایا جب ان کے اپنے کیس کی بات شروع ہوئی، کیا یہ مفادات کا ٹکراو نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے تین ارکان اور متعدد ارکان اسمبلی کے خلاف نیب نے کیسز بنائے اور سب ہی نیب سے تنگ ہیں مگر ان کے علاوہ کسی نے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی جانب سے اگلے ہفتے ایک تحریک لائی جائے گی جس کی منظوری کے بعد نیب حکام کا احتساب شروع کیا جائے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ پارلیمنٹ نیب کا کیسے احتساب کرے گی تو ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ جس طرح پولیس اور ایف آئی اے کا محاسبہ کر سکتی ہے اسی طرح سینٹ کی تین کمیٹیاں نیب کا احتساب کریں گی۔ نیب حکام کی ڈگریوں ان کے اثاثوں اور ان کی کارکردگی کا جائزہ سینٹ کی تین کمیٹیاں لیں گی جس میں انسانی حقوق، قانون و انصاف اور رولز اور پریولیجز کی کمیٹیاں شامل ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ سینیٹ کمیٹیوں کی کارروائی میڈیا کو دکھائی جائے (فوٹو: اے ایف پی)

 ان کا کہنا تھا کہ سینٹ کمیٹیاں نیب کے ان تمام متاثرین کو بھی بلائیں گی جن کے ساتھ نیب حکام نے زیادتیاں کر رکھی ہیں۔’ مجھ سے پوری دنیا سے نیب متاثرین نے رابطہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح نیب حکام غیرقانونی طریقے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ْ۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ سینیٹ کمیٹیوں کی کارروائی میڈیا کو دکھائی جائے اور نیب کی طرح چھپ چھپ کر ٹرائل نہیں ہوگا بلکہ سب کچھ عوام کے سامنے ہو گا۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے نیب کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی جس کے بعد چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ملاقات کرکے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم ان کی دوسری پریس کانفرنس کے بعد نیب نے وضاحتی اعلامیہ جاری کیا تھا۔
نیب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نیب کا کسی سیاسی جماعت، گروہ یا شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے، نیب کی وفاداری صرف ریاست پاکستان سے ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا پانچ ماہ بعد بھی جواب دینے میں ناکام رہے۔
ان سے 18 اکتوبر 2019 کو جواب طلب کیا گیا تھا، سلیم مانڈوی والا نے سوالنامے کا جواب بھی پانچ ماہ بعد دیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون نے 80 ملین کے فائدے لیے تھے، سلیم مانڈوی والا اپنے جواب میں کوئی وضاحت دینے میں ناکام رہے۔
 

شیئر: