Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں خواتین کسانوں کے احتجاج کا ’اہم ستون‘

یہ خواتین سردی کا مقابلہ کرتے ہوئے حکومت سے مارکیٹ اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
انڈیا کے دیہی معاشرے میں یوں تو مردوں کا غلبہ رہتا ہے لیکن کسانوں کے موجودہ مظاہروں میں خواتین بھی اہم ستون بن چکی ہیں۔
مختلف عمروں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین ان مظاہروں کا حصہ ہیں، جن میں کھیتوں میں کام کرنے والی، شہروں میں نوکریاں کرنے والی اور وہیل چیئر پر ’دادی‘ تک شامل ہیں۔
یہ خواتین سردی کا مقابلہ کرتے ہوئے حکومت سے مارکیٹ اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 40 سالہ پرمیندر کور، جو دن کے وقت ریلیوں میں نعرے لگاتی ہیں اور شام کو مظاہرین کے لیے چپاتی اور سالن بناتی ہیں، کا کہنا ہے کہ 'میں اپنے بچوں اور ان کے بچوں کے لیے لڑ رہی ہوں۔'
خواتین روایتی طور پر انڈین زراعت کا خاموش حصہ رہی ہیں، جو کھیتوں میں کام تو کرتی تھیں لیکن فیصلے ان کے ہاتھ میں نہیں ہوتے تھے۔ کئی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یہ خواتین غربت، امتیازی سلوک اور تشدد کا شکار رہی ہیں۔
فلاحی ادارے آکسفیم کے مطابق انڈیا کے دیہی علاقوں میں 85 فیصد خواتین کسی نہ کسی زرعی سرگرمی کا حصہ ہیں لیکن صرف 13 فیصد کسی زمین کی مالک ہیں۔
تاہم پرمیندر کور کو فخر تھا کہ خواتین دیہی فلاح کے لیے مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہی تھیں۔
پرمیندر کور کے خاندان کی دو ایکڑ زمین ہے جہاں وہ گندم اگاتے ہیں۔
'یہ زمین ہمارے لیے سب کچھ ہے۔ یہ ہمارے لیے ماں جیسی ہے۔ وہ ہم سے ہماری ماں چھیننا چاہتے ہیں، ہم اس کی اجازت کیسے دی سکتے ہیں۔'
واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے متعارف کروائے گئے تین زرعی قوانین کے تحت کسانوں کو اپنی کاشت کھلی مارکیٹ میں بیچنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے قبل دہائیوں سے کسان حکومت کی مارکیٹوں پر طے شدہ کم ترین قیمت پر اپنا گندم اور چاول بیچ رہے تھے۔

کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے زراعت کے کاروبار پر انڈیا کے بڑے کاروباروں کا قبضہ ہو جائے گا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس اصلاحات سے اس صنعت میں سرمایہ کاری ہوگی، جس میں ملک کی ایک ارب سے زائد کی آبادی کا دو تہائی حصہ کام کرتا ہے لیکن معیشت میں اس کا حصہ صرف 15 فیصد ہے۔
تاہم کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے زراعت کے کاروبار پر انڈیا کے بڑے کاروباروں کا قبضہ ہو جائے گا۔
دہلی کے ایک فلاحی ادارے شینٹر فار سوشل ریسرچ کی سربراہ رنجنا کماری کا کہنا ہے کہ خواتین زمین کی مالک تو نہیں لیکن آمدنی میں کمی سے ان کے گھروں پر برا اثر پڑے گا۔
'جب گھر کی آمدنی کم ہوتی ہے تو خواتین کی صحت پر اثر پڑتا ہے۔ کم آمدنی کا مطلب (گھر میں) پریشانی اور مردوں کے ہاتھوں تشدد ہے۔'
رنجنا کماری کا کہنا تھا کہ، 'یہی وجہ ہے کہ وہ ان قوانین پر غصے میں ہیں اور آواز اٹھا رہی ہیں۔'

شیئر: