نیم ایک ایسا درخت ہے جو برصغیر پاک و ہند سے مخصوص ہے۔ یہاں تک کہ اس کے سائنسی نام میں بھی انڈیکا لگا ہوا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ یہ درخت مخصوص انڈین ہے۔
اسے لاطینی زبان میں ازادیریچٹا انڈیکا کہا جاتا ہے اور اس کے بے شمار فوائد بتائے جاتے ہیں۔ یہ اس قدر مفید درخت ہے جسے بجا طور پر ’قدرتی دواخانہ‘ کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
-
فلم موسم جس نے ’دیوار‘ اور ’شعلے‘ کے درمیان اپنی پہچان بنائیNode ID: 883643
-
گرو دت کی فلم ’پیاسا‘ جسے ٹھکرانے کا دلیپ کمار کو ملال رہاNode ID: 886107
صدیوں سے نیم انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ رہا ہے اور روایتی طِب، زراعت اور روزمرہ ضروریات میں اس کا استعمال عام رہا ہے۔ جدید دور میں سائنسی تحقیق نے نیم کی افادیت کو مزید واضح کیا ہے، جس کے باعث اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
پہلے ہم اس کے فوائد پر بات کر لیتے ہیں اور پھر ہم اس شخص کے بارے میں بات کریں گے جو اِس کے برتن، کنگھی اور چپل بنا رہا ہے۔
جدید طِب میں نیم کو اس کی جراثیم کُش، فنگس کُش، وائرس مخالف اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات کی بنا پر خاص مقام حاصل ہے۔ نیم کے پتے، چھال، بیج اور تیل جلدی امراض جیسے کیل مہاسے، داد، خارش اور چنبل کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ نیم خُون کو صاف کرنے اور قوتِ مدافعت میں اضافہ کرنے کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ دندان سازی میں نیم کی مسواک، ٹُوتھ پیسٹ اور ماؤتھ واش دانتوں اور مسوڑھوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
جدید دور میں حُسن و زیبائش کی صنعت میں بھی نیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ نیم سے تیارکردہ صابن، شیمپو، فیس واش اور کریمیں جلد کو صاف، صحت مند اور محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
نیم کا تیل بالوں کی خشکی، جُوؤں اور سر کی بیماریوں کے علاج میں نہایت مؤثر ہے، اسی لیے یہ جڑی بوٹیوں سے تیارکردہ مصنوعات میں بکثرت استعمال ہوتا ہے۔
زراعت کے میدان میں نیم ایک انقلابی کردار ادا کر رہا ہے۔ نیم سے بنائی گئی قدرتی کیڑے مار ادویات فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں سے محفوظ رکھتی ہیں اور ماحول کو آلودہ نہیں کرتیں۔

نیم کی کَھلی نامیاتی کھاد کے طور پر زمین کی زرخیزی بڑھاتی ہے اور مُضر کیڑوں کو ختم کرتی ہے، جس سے پائیدار زراعت کو فروغ ملتا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بھی نیم کی اہمیت مسلمہ ہے۔ نیم کے درخت فضا کو صاف کرنے، زمین کی ساخت بہتر بنانے اور شہری علاقوں میں سایہ فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ نیم پر مبنی مصنوعات کے استعمال سے کیمیائی مادّوں پر انحصار کم ہوتا ہے، جس سے ماحولیاتی توازن برقرار رہتا ہے۔
گھریلو زندگی میں نیم ایک قدرتی محافظ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کے خُشک پتے اناج اور کپڑوں کو کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے رکھے جاتے ہیں۔
نیم کا تیل مچھروں اور دیگر حشرات کو دُور رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح نیم انسانی صحت کے ساتھ ساتھ گھریلو ماحول کو بھی محفوظ بناتا ہے۔
کسی شاعر نے اس سے متعلق ایک دوہا یعنی ایک شعر کہا ہے:
سُنا ہے اپنے گاؤں میں رہا نہ اب وہ نیم
جس کے آگے ماند تھے سارے وید حکیم
یہاں نیم کے دو مطلب ہیں ایک ’نیم حکیم‘ جسے لوگ خطرۂ جان بھی گردانتے ہیں اور دوسرے نیم کا درخت جو سینکڑوں بیماریوں کا علاج تھا۔

جدید سائنسی تحقیق نیم کے پوشیدہ فوائد کو مزید اُجاگر کر رہی ہے۔ ذیابیطس، ملیریا اور بعض وائرل امراض کے علاج میں نیم کے ممکنہ کردار پر تحقیق جاری ہے، جبکہ اس کے قدرتی اجزا دواسازی اور زراعت میں نئی راہیں کھول رہے ہیں۔
گذشتہ دنوں ہمیں نیم کے اِن فوائد کا ایک انوکھا استعمال نظر آیا۔
دہلی سے متصل ریاست ہریانہ کے روہتک کے رہائشی انیل جاگلان ان دنوں اپنے ہُنر سے لوگوں کو حیران کر رہے ہیں۔ وہ نیم، جامن اور ارجن کے درختوں سے ایسی اشیا بنا رہے ہیں جن کا ہماری روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہوتا ہے۔
وہ ان سے کھانے کے برتن یعنی، رکابی، کٹورے، چمچے وغیرہ بنا رہے ہیں اور ان کا یہ دعویٰ ہے کہ ان میں کھانا کھانے سے انہیں ان درختوں کے فوائد حاصل ہوں گے۔
انہوں نے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے نیم کے درخت سے کنگھے اور چپل بھی بنائے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بُک اور انسٹاگرام پر بھی اپنی بنائی گئی ان اشیا کے ساتھ متحرک نظر آتے ہیں۔
اُن کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اُن کے برتن کبھی نہیں ٹوٹیں گے، نہ اُن کا چپل کبھی ٹُوٹے گا اور نہ ہی اُن کے کنگھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹُوٹ گئے تو وہ اس کا متبادل فراہم کریں گے۔













