Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپین کا لاکھوں تارکین وطن کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کا فیصلہ، ’توقع نہیں تھی یہ ملک اتنا اچھا ہوگا‘

بارسلونا میں پاکستان کے قونصل جنرل مراد علی وزیر کے مطابق کاتالونیا کے شمال مشرقی علاقے میں تقریباً 15 ہزار پاکستانی شہری بغیر اجازت مقیم ہیں۔ (فوٹو: اے پی)
سپین میں اندازاً پانچ لاکھ سے زائد تارکینِ وطن ایسے ہیں جو قانونی اجازت کے بغیر مقیم ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ افراد وہ کام کرتے ہیں جن سے زیادہ تر ہسپانوی شہری گریز کرتے ہیں، جن میں کھیتوں میں پھل اور سبزیاں توڑنا، بچوں اور بزرگوں کی دیکھ بھال، گھروں اور ہوٹلوں کے کمروں کی صفائی شامل ہے۔ بعض اوقات ان میں سے کچھ بے گھر بھی ہو جاتے ہیں۔
انہیں ہسپانوی زبان میں ’سِن پاپیلس‘ یعنی ’بغیر کاغذات‘ کے کہا جاتا ہے، اور یہ افراد اکثر استحصال، سماجی حاشیے اور گمنامی کا شکار رہتے ہیں۔
لیکن اب سپین ان افراد کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ رواں ہفتے حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ان تمام غیرملکیوں کو رہائش اور کام کی اجازت دے گی جو 31 دسمبر 2025 سے پہلے ملک میں داخل ہوئے، کم از کم پانچ ماہ سے سپین میں مقیم ہیں اور جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں۔
سپین کے سوشلسٹ وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے جمعے کو سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ ملک ان لوگوں کے لیے قانونی راستہ کھول رہا ہے ’جنہوں نے ہمارے ساتھ مل کر اس ملک کی ترقی میں حصہ ڈالا ہے۔‘
یہ غیرمتوقع قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب امریکہ اور یورپی یونین کے دیگر ممالک میں تارکین وطن کے خلاف سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں اور ملک بدری کی کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں۔
ذیل میں تین ایسے افراد کی کہانیاں ہیں جو سپین کی نئی پالیسی کے تحت رہائش اور ورک پرمٹ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان

30 سالہ حسین ڈار تقریباً ایک برس سے سپین میں ہیں اور قانونی کاغذات نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے روزگار کی کمی کے باعث پاکستان چھوڑا اور برطانیہ میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کرنے گئے، مگر سخت امیگریشن قوانین کے باعث وہاں قیام ممکن نہ رہا اور وہ سپین آ گئے۔
قانونی طور پر کام نہ کر سکنے کے باعث ان کی تمام جمع پونجی ختم ہو چکی ہے۔ وہ اپنا کمپیوٹر فروخت کر چکے ہیں اور اب فون بیچنے پر غور کر رہے ہیں۔ کرایہ ادا نہ کر سکنے کے باعث وہ کئی راتیں سڑکوں پر گزار چکے ہیں۔
انہوں نے اس ہفتے بارسلونا میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر آٹھ گھنٹے سے ایک طویل قطار میں کھڑے ہوئے کہا کہ ’وقت بہت مشکل رہا ہے۔‘
بارسلونا میں پاکستان کے قونصل جنرل مراد علی وزیر کے مطابق کاتالونیا کے شمال مشرقی علاقے میں تقریباً 15 ہزار پاکستانی شہری بغیر اجازت مقیم ہیں۔

رواں ہفتے حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ان تمام غیرملکیوں کو رہائش اور کام کی اجازت دے گی جو 31 دسمبر 2025 سے پہلے ملک میں داخل ہوئے۔ (فوٹو: اے پی)

قانونی رہائش کے لیے درکار ایک شرط، صاف مجرمانہ ریکارڈ کے سرٹیفکیٹ، کے باعث قونصل خانے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ سپین میں درخواست دینے کی مدت بھی محدود ہو گی، جو اپریل سے جون کے آخر تک رہے گی۔
قونصل خانے نے اعلان کیا ہے کہ شہریوں کی مدد کے لیے وہ ہفتہ وار تعطیلات میں بھی کھلا رہے گا۔
حسین ڈار نے کہا کہ ’مجھے توقع نہیں تھی کہ یہ ملک اتنا اچھا ہو گا؛ موسم، لوگ، ثقافت سب۔‘
انہوں نے کہا کہ اجازت نامے ملنے کے بعد وہ کام کر سکیں گے، ٹیکس ادا کریں گے اور سپین کی معیشت میں حصہ ڈالیں گے۔ اس کے علاوہ وہ برسوں بعد اپنے خاندان سے مل بھی سکیں گے۔
حسین نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’ویوا سپین! ویوا پیڈرو سانچیز! ہمیں وہ بہت پسند ہیں۔‘

کولمبیا سے تعلق رکھنے والا ایک پناہ گزین

کولمبیا سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین الے کستانیادا نے کہا کہ ’ایک ہفتہ پہلے تک میں مسلسل بے چینی میں مبتلا تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرا کیا بنے گا، میں یہاں رہ سکوں گا یا نہیں، یا مجھے سب کچھ دوبارہ شروع کرنا پڑے گا۔‘
ان کا عارضی اجازت نامہ فروری میں ختم ہونے والا تھا۔ اب اگر ان کی پناہ کی درخواست مسترد بھی ہو جاتی ہے تو ان کے پاس سپین میں رہنے کا ایک اور قانونی راستہ موجود ہو گا۔
کستانیادا کا کہنا ہے کہ وہ صرف کام کرنا اور بنیادی سہولیات تک رسائی چاہتے ہیں، جیسے بینک اکاؤنٹ کھلوانا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ سرکاری امداد پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔
ان کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار عارضی کام مل جاتا ہے، مگر اس وقت وہ بے روزگار ہیں۔

ان تارکین وطن کو ہسپانوی زبان میں ’سِن پاپیلس‘ یعنی ’بغیر کاغذات‘ کے کہا جاتا ہے۔ (فوٹو: اے پی)

زیادہ تر لاطینی امریکی تارکینِ وطن کی طرح کستانیادا بھی سیاحتی ویزے پر قانونی طور پر سپین آئے اور پھر رک گئے۔ ہم جنس پرست ہونے کے باعث وہ کولمبیا میں امتیازی سلوک سے بچنے کے لیے ارجنٹینا گئے، تاہم دائیں بازو کے رہنما خاویر میلی کے اقتدار میں آنے کے بعد وہاں کا ماحول بدل گیا اور ان پر تشدد ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے وہاں سے جانا ہی پڑا۔‘ سپین میں آ کر وہ خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

چلی سے تعلق رکھنے والی سابق آرکیٹیکٹ

چلی کی سابق آرکیٹیکٹ پالینا ویلنزوئیلا کو اس خبر پر اب بھی یقین نہیں آ رہا۔
انہوں نے فون پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’میں اب تک مسکرانا نہیں روک پا رہی۔‘
چلی میں نوکری کھونے کے بعد وہ سپین آئیں، مگر گذشتہ تین برس سے اپنے قانونی کاغذات درست کروانے میں ناکام رہیں۔ انہوں نے ایک فراڈ میں کافی پیسے بھی گنوائیں اور ان کی امیگریشن درخواستیں دو بار بغیر وضاحت کے مسترد کر دی گئیں۔
سپین آنے والی بہت سی تعلیم یافتہ لاطینی خواتین کی طرح ویلنزوئیلا نے گزر بسر کے لیے صفائی کے کام کیے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں کوئی بھی کام کرنے کو تیار ہوں۔‘
ایک موقع پر وہ ایئر بی این بی پر درج 40 اپارٹمنٹس کی صفائی کی ذمہ دار تھیں، جسے انہوں نے کم اجرت اور شدید دباؤ والا کام قرار دیا۔
سپین کا سیاحت کا شعبہ بڑی حد تک سستی اور غیررسمی تارکینِ وطن مزدوری پر انحصار کرتا ہے۔ گذشتہ برس 97 ملین سیاح سپین آئے اور 130 ارب یورو سے زائد خرچ کیے، مگر اس آمدنی کا معمولی حصہ ہی تارکینِ وطن کو ملتا ہے۔

گذشتہ برس 97 ملین سیاح سپین آئے اور 130 ارب یورو سے زائد خرچ کیے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

جسمانی اور ذہنی تھکن کے باعث ویلنزوئیلا نے نومبر میں کام چھوڑ دیا اور اب کھانے پینے کے لیے سماجی خدمات پر انحصار کر رہی ہیں۔
وہ امید رکھتی ہیں کہ نیا رہائشی اجازت نامہ انہیں غربت سے نکالے گا، اگرچہ وہ شکوک و شبہات کا شکار بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’آخری لمحے میں ہمیشہ کوئی رکاوٹ آ جاتی ہے۔ لیکن کم از کم اب میرے پاس وہ امید ہے جو پہلے نہیں تھی۔‘

 

شیئر: