Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران: ’امریکی پابندیوں کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی ریکارڈ برآمدات‘

ایرانی وزیر کا کہنا ہے تاریخ میں برآمدات کا ریکارڈ قائم کیا۔(فائل فوٹو اے ایف پی)
ایران نے کہا ہے کہ اس نے امریکی پابندیوں کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی ریکارڈ برآمدات حاصل کر لی ہیں۔
ایران کے وزیر برائے تیل بيژن نامدار زنگنه یہ دعویٰ جمعے کو ٹیلی ویژن پر اپنے ریمارکس میں کیا ہے۔
ایرانی وزیر تیل نے کہا ’سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو ’تاریخ کے کوڑے دان‘ میں شامل ہو گئے تھے لیکن ہم زندہ ہیں اور ملک کی تعمیر کے لیے مزید امید کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’دشمن اور ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے تھے کہ ہم ہلاک اور مرجائیں اور ہماری برآمدات صفر تک پہنچ جائیں۔‘
انہوں نے کہا ’ہم نے پابندی کےعرصے کے دوران تیل کی صنعت کی تاریخ میں برآمدات کا سب سے زیادہ ریکارڈ قائم کیا۔‘
ایک اندازے کے مطابق ایران 2018 میں 2.8 ملین یومیہ بیرل کے مقابلے میں تین لاکھ یومیہ بیرل سے بھی کم تیل برآمد کرتا ہے۔
ادھر نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر ایران 2015 کے جوہری معاہدے کی شرائط پر سختی سےعمل درآمد کرے گا تو امریکہ بھی بدلے میں ایسا ہی کرے گا۔
تاہم جو بائیڈن کے دواعلیٰ قومی سلامتی کے نامزد امیدواروں نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہونے کا فیصلہ کرنے سے بہت دور ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ایران 2018 میں 2.8 ملین یومیہ بیرل کے مقابلے میں تین لاکھ یومیہ بیرل سے بھی کم تیل برآمد کرتا ہے۔(فوٹو ٹوئٹر)

خیال رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے 2018 میں دستبردار ہو گئے تھےجس کے بعد ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کرنا شروع کر دیا تھا۔
منگل کو امریکی سیکریٹری خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ امریکہ کو جوہری معاہدہ بحال کرنے کے حوالے سے جلدی فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صدر بائیڈن پہلے ایران کے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیں گے۔
ایران نے حالیہ برسوں میں پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا ہے اگرچہ خام تیل کی طرح پٹرولیم مصنوعات بھی امریکی پابندیوں میں آتی ہیں۔

شیئر: