Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چکوال میں نو سالہ بچی کی ہلاکت پر آسٹریلوی وزیراعظم کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال میں پولیس کی مبینہ غلط فائرنگ کے نتیجے میں نو سالہ آسٹریلوی بچی کی ہلاکت کے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے اس معاملے کی ’مناسب اور شفاف‘ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کیمبر ا میں پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ان حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کا شفاف طریقے سے جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ ہر کوئی جان سکے۔ سب سے بڑھ کر اس بچی کا خاندان لیکن باقی لوگ بھی۔ اور آسٹریلیا یہ توقع رکھتا ہے کہ ان حالات کی شفاف اور مناسب تحقیقات کی جائیں گی۔‘
واضح رہے کہ یہ واقعہ چند روز قبل چکوال میں اس وقت پیش آیا تھا جب آسٹریلوی شہریت رکھنے والا یہ خاندان پاکستان میں چھٹیاں گزارنے آیا ہوا تھا۔
پنجاب پولیس کے کرائم کنڑول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے اس واقعے کو ’افسوسناک انسانی غلطی‘ قرار دیتے ہوئے متعلقہ اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے۔‘
’یہ وقت خوشیوں کا ہونا چاہیے تھا‘
پریس کانفرنس کے دوران آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے آسٹریلیا میں مقیم کشمیری و پاکستانی برادری کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’میری ہمدردیاں متاثرہ خاندان اور دوستوں کے ساتھ ہیں اور یقیناً پاکستانی نژاد آسٹریلوی کمیونٹی بھی آج اس دکھ کو شدت سے محسوس کر رہی ہوگی۔ ایک نو سالہ بچی جو اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان گئی تھی، وہ وقت تو خوشیوں کا ہونا چاہیے تھا ۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق نہ صرف ایک کمسن بچی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے، بلکہ خاندان کے دیگر ارکان بھی ایسے حالات میں زخمی ہوئے ہیں جو یقیناً انتہائی ہولناک ہیں۔

پولیس کے مطابق بیان کے مطابق یہ واقعہ 10 جون کی رات قریباً پونے 12 بجے چکوال میں پیش آیا (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

چکوال کی اس رات کو کیا ہوا تھا؟
پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق یہ واقعہ 10 جون کی رات قریباً پونے 12 بجے چکوال میں پیش آیا۔
سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے مسلح ڈکیتی کی ایک جاری واردات کے دوران مداخلت کی تھی، جہاں مسلح ڈاکوؤں نے ایک کار کو روک کر کار سواروں (متاثرہ فیملی) کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا رکھا تھا۔
پولیس کے مطابق اس دوران ملزمان اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے دوران شدید افراتفری پیدا ہوئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس افراتفری میں متعلقہ پولیس افسر نے غلط فہمی کی بنیاد پر یہ سمجھا کہ ملزمان متاثرین کی گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اس نے فائرنگ کر دی۔‘
اسی فائرنگ کی زد میں آ کر نو سالہ بچی ہانیہ موقع پر دم توڑ گئی جبکہ اس کے والد اور بھائی شدید زخمی ہو گئے۔
ایس او پیز سے انحراف اور پولیس کی کارروائی
پنجاب پولیس کے کرائم ڈیپارٹمنٹ نے اعتراف کیا ہے کہ متعلقہ افسر کا یہ طرزِ عمل ادارے کے معیاری آپریشنل طریقہ کار اور طاقت کے استعمال کے اصولوں سے سنگین انحراف تھا۔
محکمے کے مطابق واقعے کے فوری بعد اقدامات اٹھاتے ہوئے متعلقہ پولیس افسر کو اسی روز معطل کر کے حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے باضابطہ گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں پولیس افسر کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے اسلحہ اور گولیوں کے خول سمیت تمام فرانزک شواہد تحویل میں لے کر تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ حقائق سامنے لا کر حتمی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
محکمے نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ادارہ سخت ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرتا ہے اور طاقت کے ’کم سے کم استعمال‘ کے اصول پر عمل درآمد اس کی بنیادی پالیسی ہے۔ بیان کے مطابق متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے اور انہوں نے اب تک ہونے والی قانونی کارروائی اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

شیئر: