Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کینسر سے متاثرہ بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے والی سعودی ڈاکٹر

نیو سمائل پراجیکٹ کے تحت کینسر سے متاثرہ بچوں کو ہاتھ سے بنی ہوئی ٹوپیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ فوٹو: عرب نیوز
ڈاکٹر نبیلہ بن سلیمان نے کم عمری میں ہی اون سے بُنائی سیکھ لی تھی اور اب اپنے اس فن سے وہ عرب دنیا میں بچوں کی مدد کر رہی ہیں۔
نبیلہ نے نیو سمائل نامی ایک پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے جس کے تحت کینسر سے متاثرہ بچوں کو ہاتھ سے بنی ہوئی ٹوپیاں فراہم کی جاتی ہیں۔
ان کے اس گروپ میں 40 سے زائد رضاکار ہیں جو کہ ان ٹوپیوں کو ڈیزائن کرتے، بناتے اور ان بچوں تک پہنچاتے ہیں جن کے کینسر سے متاثر ہونے کے دوران بال جھڑ جاتے ہیں۔
نبیلہ کے چار بچے ہیں اور وہ جدہ کے کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر میں کام کرتی ہیں۔ 'میں ہسپتال میں ایسے بہت سے بچوں سے ملی جن کے کیموتھراپی کی وجہ سے بال جھڑ گئے تھے۔‘
ڈاکٹر نبیلہ نے بتایا کہ وہ بچے اپنا سر چھپانے کے لیے کبھی عام ٹوپیاں پہنتے ہیں اور کبھی کچھ بھی نہیں۔ بچوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے والدین کے پیچھے چھپتے ہیں۔
کینسر کا علاج کرنے والے ہسپتال میں کام اور سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سے متاثر ہو کر نبیلہ نے نیو سمائل کا آغاز کیا۔ ویڈیو میں انہوں نے دیکھا کہ امریکہ میں کچھ خواتین نے ’دا میجک یارن‘ نامی ایک پراجیکٹ کا آغاز کیا جس کے تحت کینسر کے مریضوں کو اون سے بُبی ٹوپیاں دی جاتی ہیں۔
نبیلہ نے اس نوعیت کی جو پہلی ٹوپی بنائی تھی اس میں ایسے دھاگے اس طرح استعمال ہوئے تھے کہ وہ اصلی بالوں جیسے لگ رہے تھے اور اسے رافیف نامی ایک تین سالہ بچی کو دیا گیا تھا جس کے کینسر سے علاج کے دوران بال جھڑ گئے تھے۔

یہ ٹوپیاں خاص ان بچوں کے لیے ہیں جن کے کینسر کے علاج کے دوران بال جھڑ گئے ہیں۔ فوٹو: ان سپلیش

ڈاکٹر نبیلہ کے مطابق ویڈیو میں 'اس بچی کے تاثرات سب کے لیے حیران کن تھے۔ جیسے ہی میں نے اس کے سر پر ٹوپی رکھی وہ پورے ہسپتال میں بھاگنے لگی۔۔۔ اور نرسوں کو جا کر اپنی ٹوپی دکھانے لگی۔'
ان کا کہنا تھا کہ اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد انہوں نے واٹس ایپ کے ذریعے دیگر افراد کو اپنے پراجیکٹ کا حصہ بنایا۔ نبیلہ کا کہنا تھا کہ ٹوپیوں میں استعمال ہونے والے مٹیریل کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کیونکہ کینسر کے مریضوں کی جلد نازک ہوتی ہے۔
نیو سمائل پرجیکٹ نے پہلے سال ریاض میں ہسپتالوں کے ساتھ پارٹنرشپ کی جن میں کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر اور کنگ خالد یونیورسٹی ہسپتال شامل ہیں۔

شیئر: