Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں دنیا کا سب سے بڑا کرکٹ سٹیڈیم مودی کے نام پر

موٹیرا سٹیڈیم کا نام انڈیا کے پہلے وزیر داخلہ اور نائب وزیراعظم کے نام پر ’سردار پٹیل سٹیڈیم‘ رکھا گیا تھا (فوٹو: پی ٹی آئی)
انڈیا کے صدر رام ناتھ کوند نے بدھ کو گجرات کے تاریخی شہر احمد آباد میں دنیا کے سب بڑے کرکٹ سٹیڈیم کا افتتاح کر دیا ہے۔
موٹیرا نامی اس سٹیڈیم کا نام بدل کر اب انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کے نام پر ’نریندر مودی سٹیڈیم‘ رکھ دیا گیا ہے۔
اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور ان کے بیٹے جے شاہ بھی موجود تھے جو انڈیا میں کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری ایشیئن کرکٹ کونسل کے صدر ہیں۔
اس سے قبل موٹیرا سٹیڈیم کا نام انڈیا کے پہلے وزیر داخلہ اور نائب وزیراعظم کے نام پر ’سردار پٹیل سٹیڈیم‘ رکھا گیا تھا جس میں گذشتہ سال فروری میں ہی اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نریندر مودی نے شاندار استقبال کیا تھا۔
دنیا کے اس سب سے بڑے کرکٹ سٹیڈیم کو نریندر مودی کے نام سے منسوب کرنے پر سوشل میڈیا پر نکتہ چینی بھی ہو رہی ہے جبکہ ان کے حامی اس کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
یہ معاملہ سیاسی رنگ اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ اس سے متعلق اندرا گاندھی، جواہر لعل نہرو اور راجیو گاندھی کے ناموں پر موجود سٹیڈیمز کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ سٹیڈیم کو نریندر مودی کے نام سے منسوب کرنے پر سوشل میڈیا پر نکتہ چینی بھی ہو رہی ہے (فوٹو: اے این آئی)

دریں اثنا اس سٹیڈیم میں آج بدھ سے انڈیا اور انگلینڈ کے درمیان چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا تیسرا میچ کھیلا جا رہا ہے۔ اس سے قبل دونوں ٹیمیں ایک ایک ميچ جیت کر سیریز میں برابر رہیں۔
یہ ڈے نائٹ میچ ہے اور گلابی گیند سے کھیلا جا رہا ہے۔ اس سے قبل آسٹریلیا کا میلبرن کرکٹ گراؤنڈ دنیا کا سب سے بڑا سٹیڈیم ہوا کرتا تھا۔
صدر رام ناتھ کووند نے اس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کو کرکٹ کا پاور ہاؤس اور کرکٹ کا ہب کہا جاتا ہے اس لیے دنیا کا سب سے بڑا سٹیڈیم کا یہاں ہونا بھی مناسب ہے۔
سٹیڈیم کا نام نریندر مودی کے نام پر رکھنے کے حامیوں کی دلیل ہے کہ جب اندرا گاندھی راجیو گاندھی اور نہرو کے نام پر سٹیدیم ہو سکتے ہیں تو نریندر مودی کے نام پر کیوں نہیں؟

سٹیڈیم میں آج بدھ سے انڈیا اور انگلینڈ کے درمیان چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا تیسرا میچ کھیلا جا رہا ہے (فوٹو: پی ٹی آئی)

برنٹ ان ڈاؤن سین نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ ’راجیو گاندھی کھیل رتن- ٹھیک، راجیو گاندھی سٹیڈیم- ٹھیک، جواہر لعل نہرو سٹیڈیم- ٹھیک، انڈرا گاندھی سٹیڈیم- ٹھیک۔ نریندر مودی سٹیڈیم پر کہا جا رہا ہے کہ مودی کرکٹ کے بارے میں کیا جانتے ہیں انہوں نے اس میں کیا حصہ ڈالا ہے؟‘
ارنب بھٹاچاریہ نامی ایک صارف نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے ٹویٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مجھے کسی سٹیڈیم اور سپورٹس ایوارڈ کا نام سیاست دانوں کے نام پر رکھنے سے مسئلہ ہے۔ چاہے وہ راجیو گاندھی کے نام پر ہو یا پھر نریندر مودی کے نام پر۔ یہی نہیں یہاں تو سردار پٹیل کے نام کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔ میں اس کے خلاف ہوں۔'
ایک  صارف امرناتھ پنجیکر نے لکھا کہ 'سردار پٹیل کے نام سے منسوب سٹیڈیم کو نریندر مودی کا نام دیا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس سردار پٹیل کی جانب سے آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا بدلہ لے رہا ہے۔'
واضح رہے کہ انڈیا کے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی ہلاکت کے بعد سردار پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی لگا دی تھی۔
بی جے پی کی سوشل میڈیا انچارج نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’یہ انڈیا کے لیے فخر کا مقام ہے کہ ایک ملک میں جہاں کرکٹ کو کھیل نہیں مذہب تصور کیا جاتا ہے وہاں دنیا کا سب سے بڑا سٹیڈیم دس کروڑ امریکی ڈالر میں تیار ہوا ہے اور وہاں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ میچ کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔‘

شیئر: