Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان فلم انڈسٹری کا ’رانجھا‘ نہ رہا، اعجاز درانی انتقال کرگئے

اعجاز درانی نے 1959 میں نور جہاں سے شادی کی جن سے ان کی تین بیٹیاں پیدا ہوئیں (فوٹو: فیس بک)
پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان فلم انڈسٹری کے ماضی کے مقبول ہیرو، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر اعجاز درانی 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔
وہ 1956 سے 1984 تک پاکستان فلم انڈسٹری میں فعال رہے۔ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور ہسپتال میں بھی زیرعلاج تھے۔ وہ ملکہ ترنم نور جہاں کے سابق شوہر تھے۔
اعجاز درانی کی وجہ شہرت 1970 میں ریلیز ہونے والی شہرہ فلم ’ہیر رانجھا‘ میں ان کا مرکزی کردار تھا۔
اعجاز درانی نے بطور اداکار جن فلموں میں کام کیا ان میں حمیدہ، بڑا آدمی، گمراہ، راز، سولہ آنے، سُچے موتی، ڈاکو کی لڑکی اور گُل بدن شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے عزت، منزل، سلمٰی، وطن، دو راستے، فرشتہ، شہید، عذرا اور دیگر فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔
انہوں نے زیادہ تر پنجابی فلموں میں ہی کام کیا۔ اعجاز درانی 1935 میں جلال پور جٹاں ضلع گجرات کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے 1959 میں نور جہاں سے شادی کی جن سے ان کی تین بیٹیاں حنا، شازیہ اور نازیہ پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 1979 میں نور جہاں کو طلاق دے دی۔ 
بعد میں انہوں نے فلم ہیر رانجھا کی ہیروئین فردوس سے شادی کی تاہم انہیں بھی طلاق دے دی۔
اعجاز درانی سے طلاق کے بعد نور جہاں نے عدالت کے ذریعے بیٹیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
 اعجاز درانی کی پہلی فلم کا نام ’حمیدہ‘ تھا جس کے ہدایت کار منشی دل تھے اور یہ فلم 1956 میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میں وہ بطور ساتھی اداکار متعارف ہوئے۔
انہوں نے ایک اور اردو فلم ’مرزا صاحباں‘ میں بھی سائیڈ ہیرو کا ہی کردار ادا کیا تاہم 1957 میں ریلیز ہونے والی فلم ’بڑا آدمی‘ وہ پہلی فلم تھی جس میں انہوں نے ہیرو کا کردار نبھایا تھا۔
سول میڈیا صارفین نے اعجاز درانی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اسے پاکستان فلم انڈسٹری کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔
پنجاب کے سینیئر وزیر عبدالعلیم خان نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے اعجاز درانی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘
سوشل میڈیا صارف شازیہ ملک نے ٹوئٹر پر اعجاز درانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی فلم ہیر رانجھا کا پوسٹر شیئر کیا۔

 

شیئر: