اداکارہ نیلو نے 1956 میں فلم ’بھوانی جنکشن‘ سے اپنی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 12 برس تھی۔
انہوں نے کئی یادگار فلمیں دیں۔ فلم سات لاکھ میں جلوہ گر ہوئیں تو گانا ’آئے موسم رنگیلے سہانے‘ اُن کی پہچان بن گیا۔
اداکارہ نیلو نے 1956 میں فلم ’بھوانی جنکشن‘ سے اپنی کیریئر کا آغاز کیا۔ (فوٹو: شان شاہد فیسبک)
سرگودھا کی نواحی قصبے بھیرہ کے مسیحی گھرانے میں آنکھ کھولنے والی سنتھیا الیگزینڈر فلمی دنیا کی نیلو بنی۔ انہوں نے پاکستانی فلموں میں آئٹم سانگ سے شہرت پائی۔
شاہ ایران کے سامنے رقص کے لیے مجبور کرنے پر نیلو نے خواب آور گولیاں کھا لیں جس پر نامور شاعر حبیب جالب نے نظم لکھی۔
نیلو نے معروف ہدایتکار ریاض شاہد سے شادی کی اور اپنا نام عابدہ رکھا۔ ان کی مشہور فملوں میں ’زرقہ‘، ’دو راستے‘، ’گھونگھٹ‘ اور ’راستے ‘ شامل ہیں۔
انہیں فلم ’زرقہ‘ میں بہترین اداکاری کے لیے ’نگار ایوارڈ‘ سے بھی نوازا گیا۔