Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فوز و فلاح ، قرآن مجید کی روشنی میں

 فوز ِعظیم یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت حاصل ہو جائے مگر یہ ایمان، عملِ صالح اور غلبۂ دین کی جد و جہد سے مشروط ہے
 
ڈاکٹر سید فرحت حسین۔نینی تال، ہند
 
اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے سلسلے میںسورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لئے ہیں، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور مارتے مرتے ہیں،ان سے( جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمہ ایک پختہ وعدہ ہے تورات میں انجیل میں اور قرآن میں، اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو؟پس خوشیاں منائو اپنے اس سودے پر جو تم نے اللہ سے کیا ہے،یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
 
مہاجرین اورمجاہدین
 اللہ کے ہاں تو انہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنھوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑ ے اور جان مال سے جہاد کیا وہی کامیاب ہیں۔(التوبہ20)۔
 
دوزخ سے بچ کر جنت میں پہنچ گئے 
  جو آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے وہی اصل میں کامیاب ہے (آل عمران185) ۔
دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہو سکتے،جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں(الحشر20)۔
 
ٹھیک بات کرنے والوں کیلئے ارشاد ربانی ہے
اے ایما ن لانے والو !اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو،اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا،جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘(الاحزاب71,70)۔
 
اللہ کے دوست
سنو جو اللہ کے دوست ہیں،جو ایمان لائے جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ،دنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کیلئے بشارت ہی بشارت ہے،اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں،یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘(یونس64-62 ) ۔
 
جو سزا سے بچ جائے
ارشاد ربانی ہے
 اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی (فوز المبین) ہے۔‘‘(الانعام16)۔
مطلب یہ ہے کہ فوز،فوز ِعظیم فوزِ کبیر یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مرنے کے بعد جنت حاصل ہو جائے مگر یہ بھی ایمان، عملِ صالح اور غلبۂ دین کی جد و جہد اور قربانی سے مشروط ہیں۔
 
  رضائے الٰہی 
انسان کی اس سے بڑی خوش بختی اور کامیابی کیا ہو سکتی ہے کہ مالک کائنات اس سے راضی ہو جائے، ارشاد ربانی ملاحظہ فرمائیے 
  جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کئے وہ خوش بخت ہیں، ان کا بدلا ان کے رب کے پاس ہے،دائمی قیام کی جنتیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی،وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے،اللہ ان سے راضی ہواوہ اللہ سے راضی ہوئے،یہ کچھ ہے اس شخص کے لئے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو(البینہ8,7)۔
  اے مطمئن نفس! اپنے رب کی طرف لوٹ جااس حال میں کہ وہ تجھ سے راضی ہو اور تو اس سے راضی ہو،شامل ہو جا میرے بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں (الفجر37-30) ۔
  سورہ المائدہ ،آیت119 میں رب کی رضا کو بڑی کامیابی قرار دیا گیا:
 اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ،یہ بڑی کامیابی ہے۔
  سورہ توبہ ،آیت100 میں ہے 
وہ مہاجر و انصار جنھوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان
 کے پیچھے آئے اللہ ان سے راضی ہوا وہ اللہ سے راضی ہوئے،اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے،یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔
 ملتا جلتا مضمون آیت72 میں گزر چکا ہے۔
 
 آگ سے بچاؤ 
جہنم کی آگ سے دوزخ کے عذاب سے بچ جانا ہی در اصل نجات ہے اس لئے مومن یوں دعاء کرتا ہے۔
اے ہمارے رب! دنیا اور آخرت میں ہمیں بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔
سورہ آل عمران،آیت185 میںفرمایا گیا
جو آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے وہی کامیاب ہے۔
ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہے
 اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچائو۔(التحریم 6)۔
 
خوف اور رنج سے عافیت 
اسی مفہوم میں قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ’’لا خوفٌ علیھم ولا ھم یحزنون‘‘  آیا ہے ،یعنی انھیں نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہونگے۔اس کے لئے بھی ہدایت الٰہی کی پیروی ایمان،نیک عمل،انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ ضروری ہیں۔ارشاد ربانی ہے
بے شک وہ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس پر ثابت قدم رہے  تو ایسے لوگوں کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوتے ہیں۔(الاحقاف13)۔
 
 
 
 

شیئر: