Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سیریل کھانے کا ’درست طریقہ‘ کیا ہے؟ برطانوی ایٹیکیٹ کوچ کی ویڈیو وائرل

ہینسن کہتے ہیں کہ ایک ہاتھ میں چمچ اور دوسرے ہاتھ میں کانٹا پکڑ کر سیریل کھائیں (فائل فوٹو: آئی سٹاک)
آدابِ محفل کے برطانوی ایٹیکیٹ کوچ ولیم ہینسن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ سیریل کھانے کا ’درست طریقہ‘ بتا رہے ہیں۔
اس طریقے میں چمچ کے ساتھ کانٹے کا استعمال کرنے کی بات کی گئی ہے جس پر انٹرنیٹ صارفین کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق ولیم ہینسن نے فروری کے آخر میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ سیریل کھاتے وقت ایک ہاتھ میں چمچ اور دوسرے ہاتھ میں کانٹا ہونا چاہیے۔
یہ ویڈیو ایک ہوٹل کے ناشتے کے بوفے پر ریکارڈ کی گئی تھی اور اسے پانچ ملین سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔
ویڈیو میں ہینسن کہتے ہیں کہ ’سب سے پہلے اپنی پسند کا دودھ شامل کریں۔ پھر ایک ہاتھ میں چمچ اور دوسرے ہاتھ میں کانٹا پکڑ کر سیریل کھائیں۔‘
ان کے مطابق کانٹے کی مدد سے سیریل کو چمچ پر رکھا جاتا ہے تاکہ کھانا زیادہ صاف اور ترتیب سے کھایا جا سکے۔
آسٹریلوی آدابِ محفل کی ماہر جو ہیز کے مطابق یہ طریقہ اگرچہ ’بہت خاص اور کم استعمال ہونے والا‘ ہے لیکن کانٹا استعمال کرنے سے سیریل کو چمچ پر رکھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پیالہ چوڑا اور کم گہرا ہو تو اضافی برتن کا استعمال کچھ حد تک مفید ہو سکتا ہے۔
جو ہیز نے کہا کہ وہ عمومی طور پر ہینسن کی بات سے متفق ہیں لیکن انہوں نے کبھی کسی کو سیریل کھاتے وقت کانٹا استعمال کرتے نہیں دیکھا۔
ان کے مطابق سیریل صرف چمچ سے بھی باادب انداز میں کھایا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگ چمچ پر سیریل رکھنے کے لیے انگلیاں استعمال نہ کریں اور نہ ہی پیالے کی طرف زیادہ جھکیں۔
برطانوی مصنفہ اور آدابِ محفل کی ماہر لورا ونڈسر کے مطابق ماضی میں بعض کھانوں کے لیے کھانے کے طریقے زیادہ پیچیدہ ہوا کرتے تھے۔ ان کے مطابق روایتی طور پر چمچ غالب ہاتھ (جو کام کاج کے لیے زیادہ استعمال ہوتا ہے) میں رکھا جاتا تھا جبکہ دوسرا برتن، کبھی چمچ اور کبھی کانٹا، سیریل اور دودھ کو سنبھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا تاکہ وہ گرنے سے بچ سکے۔

سیریل صرف چمچ سے بھی باادب انداز میں کھایا جا سکتا ہے (فائل فوٹو: آئی سٹاک)

انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات خشک سیریل کو الگ پیالے میں موجود دودھ میں ڈبو کر بھی کھایا جاتا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جدید دور کے زیادہ تر ناشتے کے لیے یہ طریقے کچھ زیادہ ہی پیچیدہ محسوس ہوتے ہیں۔
اس ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا صارفین دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ مذاق ہے یا واقعی سنجیدہ بات۔‘ جبکہ ایک اور صارف نے کہا، ’سیریل کھانے کے لیے کانٹا استعمال کرنا تو بالکل عجیب بات ہے۔‘
تاہم کچھ لوگ اس خیال کے حق میں بھی نظر آئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’میں تو صرف اپنے ناشتے میں تھوڑی سی شائستگی شامل کرنے کے لیے کانٹے کے ساتھ سیریل کھاؤں گا۔‘
امریکہ میں آدابِ محفل کی ماہر لیزا مرزا گروٹس نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق سیریل کھاتے وقت دو برتن استعمال کرنے کا کوئی خاص اصول موجود نہیں۔ ان کے مطابق مغربی کھانے کے آداب میں سیریل ہمیشہ چمچ سے ہی کھایا جاتا ہے۔

بعض اوقات خشک سیریل کو الگ پیالے میں موجود دودھ میں ڈبو کر بھی کھایا جاتا تھا (فائل فوٹو: پکس ہیئر)

نیو انگلینڈ سکول آف پروٹوکول کی بانی نکی ساونی نے بھی اسی رائے سے اتفاق کیا۔ ان کے مطابق اگرچہ بعض لوگ سہولت کے لیے کانٹا استعمال کر سکتے ہیں، مثلاً گرینولا کے بڑے ٹکڑوں کو توڑنے کے لیے، لیکن عام حالات میں ایسا کرنا ضروری نہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ کھانے کے آداب کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنانے کے بجائے سادہ رکھنا بہتر ہے۔ ان کے مطابق ’زیادہ برتن یا اضافی مراحل شامل کرنے سے سادہ کھانا بھی مشکل لگنے لگتا ہے۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ ولیم ہینسن اس سے پہلے بھی کھانے کے آداب سے متعلق بیانات کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ چکے ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے کہا تھا کہ کیلا کھانے کا ’واحد درست طریقہ‘ چاقو اور کانٹے کے ساتھ ہے۔ ان کی نئی سیریل والی ویڈیو اس قدر مشہور ہوئی کہ اس کا ذکر مشہور پروگرام ’سیٹرڈے نائٹ لائیو‘ میں بھی کیا گیا۔
بعد میں ہینسن نے فیس بک پر ایک پول میں پوچھا کہ ’کیا میں نے حد سے زیادہ بات کر دی؟‘ جس پر زیادہ تر لوگوں نے جواب دیا ’جی ہاں۔‘

شیئر: