Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈی پورٹ ہونے والے کارکن کو نئے ویزے پر بلایا جا سکتا ہے؟

مملکت میں غیرملکیوں کے لیے اقامہ اور رہائشی قوانین واضح ہیں
سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے لیے اقامہ اور رہائشی قوانین واضح ہیں جن پرعمل کرنا سب کے لیے لازمی ہے۔ آجر اور اجیر کے حوالے سے بھی قوانین موجود ہیں ان سے آگاہی ضروری ہے۔
 ایک شخص نے جوازات سے پوچھا ہے اقامہ ایکسپائرہے جبکہ کفیل نے ہروب بھی فائل کردیا۔ وطن واپس کیسے جاسکتا ہوں؟ 
 جوازات کی جانب سےبتایا گیا کہ اس صورت  میں آپ کو چاہئے کہ وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود آبادی کے شعبہ ’کارکنوں کے اختلافات ‘ سے رجوع کیا جائے جہاں سے معاملے کا کوئی حل نکالا جائے گا بعدازاں شعبہ ترحیل (ڈیپوٹیشن سینٹر) سے رجوع کریں۔ 
واضح رہے ہروب فائل ہونے کے 15 دن کے اندر کفیل اسے کینسل کرانے کا مجاز ہے۔ اس مدت کے بعد ہروب ختم کرانے کےلیے وزارت افرادی قوت کا ذیلی ادارہ جو آجر و اجیر کے مابین ہونے والے اختلافات کا جائزہ لینے کے بعد مناسب حل تجویز کرتا ہے۔ کیس دائر کرنا ہوتا ہے جہاں متعلقہ کمیٹی کیس کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرتی ہے۔ 
وزارت افرادی قوت کی متعلقہ کمیٹی اپنے فیصلے سے فریقین کو مطلع کرتی ہے جس کے بعد اگر ہروب کینسل کرانا ہوتا ہے تو اس کی سفارش کی جاتی ہے۔  
ہروب کینسل کرنے کے بعد کیس ڈیپوٹیشن سینٹر ’شعبہ ترحیل‘ کو ارسال کیاجاتا ہے جہاں سے کارکن کو اس کے ملک روانہ کرنے کی باقی کارروائی مکمل کی جاتی ہے۔ 
ایک شخص نے دریافت کیا کہ گھریلو کارکن جسے تین برس قبل ڈی پورٹ کیا گیا تھا کیا اب دوبارہ اسے دوسرے ویزے پر بلایا جاسکتا ہے؟ 

نئے قانون محنت کے بعد سے تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے(فوٹو ٹوئٹر)

 جوازات کا کہنا تھا کہ ’قانون کے مطابق جس غیر ملکی کارکن کوشعبہ ترحیل کے ذریعے ڈی پورٹ کیا جاتا ہے وہ صرف حج و عمرہ ویزے پر ہی آسکتا ہے۔ ورک ویزے کے لیے نہیں۔ 
یاد رہے نئے قانون محنت کے بعد سے یہ تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے جس کے تحت ڈی پورٹ ہونے والے افراد دوبارہ کسی ورک ویزے پرمملکت نہیں آسکتے۔ قبل ازیں جن افراد کواقامہ یا محنت قانون کے تحت ڈی پورٹ کیاجاتا تھا ان پر چند برس کےلیے پابندی عائد کی جاتی تھی مگر اب ڈی پورٹ ہونے والے افراد کو صرف حج یا عمرہ کی ادائیگی کےلیے ہی مملکت آنے کی اجازت ہوگی۔ 
 ایک اور شخص نے سوال کیا سال 2015 میں جوازت کے ذریعے ڈی پورٹ کیا گیا تھا اور ’بصمہ مرحل ‘ یعنی انٹری پر پابندی کے لیے دو برس کی مدت تھی۔ کیا اب دوسرے ویزے پر مملکت آسکتا ہوں؟ 
جوازات کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق کوئی بھی غیر ملکی جسے مملکت سے شعبہ ترحیل کے ذریعے ڈی پورٹ کیا گیا ہو وہ دوبارہ نئے ورک ویزے پر نہیں آسکتا۔ ایسے افراد صرف حج و عمرہ ویزے پرہی آسکتے ہیں ورک ویزے پر نہیں۔ 
خیال رہے پہلے سوال میں صرف ڈی پورٹ کیا گیا تھا جبکہ دوسرے سوال میں ڈی پورٹ کے ساتھ پابندی کی مدت کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جبکہ جوازات کی جانب سے دونوں سوالات کا جواب یکساں ہے یعنی ڈی پورٹ ہونے والا شخص دوسرے ورک ویزے پر مملکت نہیں آسکتا۔ 

شیئر: