Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سونے کے نرخ مسلسل کیوں بڑھ رہے ہیں؟

چین نے اپریل میں 111 ٹن سونا درآمد کیا- (فوٹو: روئٹر)
سعودی گولڈ مارکیٹ کے ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ماہانہ بنیاد پر سونے کے نرخوں میں اضافہ رواں سال کی دوسری ششماہی میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔  
گذشتہ ہفتوں کے دوران سونا مہنگا ہوا ہے۔ ماہانہ کی بنیاد پر سات فیصد سے زیادہ نرخ بڑھے ہیں۔ ڈالر اور منافع کی شرح میں کمی اور افراط زر کے خدشات کے پیش نظر خیال کیا جا رہا ہے کہ سونے کے نرخوں میں اضافہ جاری رہے گا۔ 
سبق ویب سائٹ کے مطابق مئی کے آخر میں سونے کا منافع مسلسل دوسرے ماہ جاری رہا۔ اس کی بدولت رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران گولڈ مارکیٹ میں نظر آنے والے نقصان کی تلافی ہوگئی۔
مئی میں ایک اونس سونا 1899 ڈالر تک پہنچ گیا جو جنوری کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ماہانہ کی بنیاد پر 7.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ پہلی سہ ماہی کے دوران 11 فیصد سستا ہوا تھا۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ 31 مئی 2021 تک سونے کے نرخوں پر چار اہم عناصر چھائے رہے۔ اقتصادی سرگرمیوں میں وسعت، مارکیٹ کے خدشات، متبادل حل کی لاگت کی بنا پر سونے کی طلب میں اضافہ ہوا۔ سب سے زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے سونے میں سرمایہ کاری شروع کر دی ہے اور یہ نرخوں میں اضافے کا سب سے اہم سبب ہے۔ 
اپریل میں سونے کے کاروبار کے حوالے سے مثبت اشارے ملے۔ مئی میں لوگ زیادہ پرامید ہوگئے۔ طویل مدتی سودے 44 ارب ڈالر تک پہنچ گئے- 725 ٹن تک سونا خریدا گیا جو فروری سے بلند ترین سطح ہے۔
گولڈ انویسٹمنٹ فنڈ میں سونا ذخیرہ کرنے کا رجحان بڑھا ہے جو تین ارب 40 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 222 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس سے سرمایہ کاروں کے حلقوں میں تشویش کی لہر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
امریکی ڈالر کی قدر میں مزید کمی نے سونے کو مزید سہارا دیا۔ 
منافع کی شرح سونے کی پوزیشن بہتر بنانے میں اب تک بے حد اہم کردارادا کررہی ہے۔
علاقائی سرگرمیاں بھی سونے کے نرخ پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ چین نے اپریل میں 111 ٹن سونا درآمد کیا۔ ماہانہ کی بنیاد پر 73 ٹن زیادہ اور سالانہ کی بنیاد پر 106 ٹن زیادہ سونا درآمد کیا گیا۔ یہ جنوری 2020 کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔ اس کا نتیجہ سونے کی طلب بڑھنے اور مقامی سطح پر رسد گھٹنے کا باعث بنی۔
 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے اردو نیوز گروپ جوائن کریں

شیئر: