Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’دنیا نے افغانستان کی نئی نسل کو چھوڑ دیا، مستقبل تاریک ہے‘

سابق صحافی شبیر احمدی کا خیال ہے کہ افغانستان کا مستقبل تاریک ہے۔ (فوٹو: اے پی)
گزشتہ ہفتے تک شبیر احمدی افغانستان میں خبروں کی کوریج میں مصروف تھے لیکن طالبان کے زیرانتظام ملک کو چھوڑنے کے لیے ایک فوری اور تکلیف دہ فیصلہ کیا۔
اب وہ سپین میں ہیں اور افغانستان کے حالات سے  اپنے آپ کو باخبر رکھنے لیے موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق 29 سالہ صحافی اور ان کے قریبی رشتہ دار کابل سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور اب وہ ایک نئی زندگی گزارنے کے لیے شمالی سپین کے شہر میں پناہ حاصل کرنے کے لیے ایک طویل عمل سے گزر رہے ہیں۔
شبیر احمدی نے بتایا کہ اب ان کے خوف کا مرکز ان کے خاندان کے افراد سمیت وہ ہزاروں افغان شہری ہیں جو ملک سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ ’افغانستان میں مایوسی کا احساس ہے۔ ذرا تصور کریں کہ آپ نے 20 سال تک ایک عمارت بنائی ہو اور وہ اب تباہ ہو رہی ہو اور آپ اس عمارت سے باہر نہیں جا سکتے۔ یہ بہت برا محسوس ہوتا ہے۔ ہماری تعلیم، ہماری اپنے لیے، بچوں کے لیے، مستقبل کے لیے اور اپنے ملک کے لیے تمام امیدیں تباہ ہو گئیں۔‘
پرائیویٹ نیوز چینل طلوع نیوز جہاں شبیر احمدی نے بطور ڈپٹی ہیڈ آف نیوز کام کیا، طالبان کا ہدف رہا ہے۔
لیکن یہ صرف احمدی نہیں تھا جنہوں نے خطرہ محسوس کیا۔ ان کی والدہ اٹارنی تھیں، والد سابق صحافی رہ چکے ہیں اور ان کے بھائی انجینیئر ہیں جنہوں نے ہائیدرو پاور جنریشن پر کام کیا۔
رواں مہینے کے آغاز میں جب طالبان کابل کے قریب پہنچنا شروع ہوئے تو شبیر احمدی کے خاندان نے مختلف ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں دیں، سپین وہ پہلا ملک تھا جس نے ان کی درخواستوں کا جواب دیا۔

امریکہ نے کہا ہے کہ ایک لاکھ سے زیاہ افراد کو افغانستان سے نکال لیا گیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ہوئسکا سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جب میں طیارے میں سوار ہوا تو میں سوچ رہا تھا کہ اللہ کا شکر، آخر کار میں محفوظ ہوں۔ لیکن افغانستان میں رہنے والے دیگر لوگوں کا کیا ہوگا؟‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’افغانستان سے لوگ مجھے ٹیلی فون کر رہے ہیں کہ حکومت یا طالبان کی جانب سے کوئی تنخواہ نہیں ہے اور بینک بند ہیں اور وہ خاندانوں کے انخلا کی سکت نہیں رکھتے۔‘
انہوں نے کہا کہ حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے غیرملکی افواج کے نکلنے کے بعد ان کے جاننے والے پاکستان اور ایران کے راستے ملک چھوڑنے کے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔
سابق صحافی کا خیال ہے کہ افغانستان کا مستقبل تاریک ہے۔

افغانوں کو فوجی طیاروں کے ذریعے کابل سے نکالا گیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

’بائیڈن انتظامیہ طالبان کے ساتھ ایک بہتر معاہدے پر مذاکرات نہیں کر سکی اور امریکہ نے ہمیں طالبان کے حوالے کر دیا۔ ایک ایسے گروپ کے حوالے کیا جس کے دنیا بھر کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطے ہیں۔‘
شبیر احمدی کا کہنا ہے کہ دنیا نے افغانستان کی نئی نسل کو چھوڑ دیا۔
’کوئی ملک اس لیے مضبوط ہوتا ہے کہ اس کے عوام اس کے لیے کام کرتے ہیں، ہم اپنے ملک کو ہمیشہ کے لیے نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم ایک ایسی نسل ہے جس نے افغانستان میں کوئی دن بھی جنگ کے بغیر نہیں دیکھا، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں کوئی ایسا دن دیکھیں تو ہمیں اپنے ملک کے لیے کام کرنا ہوگا۔‘

شیئر: