صدر ٹرمپ برطانوی وزیراعظم سٹارمر کی جانب سے فضائی اڈوں کے استعمال کی رکاوٹ پر ’بہت مایوس‘ ہیں: ٹیلیگراف
ٹرمپ نے کہا کہ سٹارمر کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے میں ’بہت زیادہ وقت‘ لگ گیا (فوٹو: اے ایف پی)
برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر سے ’بہت مایوس‘ ہیں کیونکہ انہوں نے امریکہ کو ایران پر حملوں کے لیے ڈیگو گارسیا ایئربیس استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے ابتدا میں امریکہ کو اپنی فوجی تنصیبات سے فضائی حملے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا، لیکن اتوار کی شام سٹارمر نے کہا کہ وہ اُن کی درخواست قبول کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ ایرانی اہداف پر کوئی ’دفاعی‘ حملہ کرنا چاہے تو برطانوی اڈوں کا استعمال کر سکتا ہے۔
پیر کو شائع ہونے والے انٹرویو میں ٹرمپ نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ سٹارمر کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے میں ’بہت زیادہ وقت‘ لگ گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’شاید ایسا پہلے کبھی ہمارے دونوں ممالک کے درمیان نہیں ہوا، لگتا ہے وہ اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں فکر مند تھے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ سٹارمر کو شروع سے ہی امریکہ کو ڈیگو گارسیا، جو بحرِہند میں امریکہ اور برطانیہ کا ایک سٹریٹجک اہمیت کا حامل ایئربیس ہے، استعمال کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے تھی، کیونکہ ایران ’آپ کے ملک کے بہت سے لوگوں کو قتل کرنے کا ذمہ دار ہے۔‘
برطانیہ سنیچر کو ہونے والے ان مشترکہ امریکی-اسرائیلی فضائی حملوں میں شامل نہیں تھا جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہای ہلاک ہوئے۔
ایران پر حملے شروع ہونے کے بعد سے ایران نے خلیجی ممالک کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، اور اتوار کو ایک ایرانی ساختہ ڈرون نے سائپرس میں برطانیہ کے آر اے ایف اکروتیری بیس کو نشانہ بنایا۔ حملے میں معمولی نقصان ہوا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اب یہ ’مفید‘ ہے کہ امریکہ ڈیگو گارسیا سے آپریشنز شروع کر سکے گا، اور اسی دوران انہوں نے اُس معاہدے پر بھی تنقید کی جو سٹارمر نے چاگوس جزائر کی خودمختاری کے حوالے سے کیا ہے، وہی جزائر جہاں ڈیگو گارسیا واقع ہے۔
