جنگل کا بدلتا مزاج: کیا انڈیا میں شیر اپنے شکار کا طریقہ بدل رہا ہے؟
جنگل کا بدلتا مزاج: کیا انڈیا میں شیر اپنے شکار کا طریقہ بدل رہا ہے؟
پیر 2 مارچ 2026 6:12
یوسف تہامی، دہلی
رپورٹ کے مطابق جنوری تا جون 2025 کے دوران ٹائیگر ریزروز کے آس پاس کم از کم 43 افراد ہلاک ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
انگریزی میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ ’لیپرڈ کین ناٹ چینج اٹس سپاٹ‘ یعنی شیر اپنی فطرت نہیں بدل سکتا، لیکن گذشتہ دنوں دہلی سے کوئی 200 کلومیٹر دور راجستھان کے شہر الور میں ایک رپورٹ جاری کی گئی جس نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔
الور کے نملی میں قائم سینٹر فار سائنس اینڈ انوارنمنٹ 2026 کے لیے انڈیا کی ماحولیات کے حالات پر رپورٹ پیش کی گئی جس میں انڈیا میں شیروں کی تعداد یا ان کے اعداد و شمار کا ذکر تو نہیں تھا لیکن ایک سنجیدہ سوال تھا کہ کیا انڈیا کا شیر اپنی ’دھاریوں‘ کے ساتھ اپنا رویہ بھی بدل رہا ہے؟
رپورٹ کے مطابق جنوری تا جون 2025 کے دوران ٹائیگر ریزروز کے آس پاس کم از کم 43 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 2024 کے انہی مہینوں میں یہ تعداد 44 تھی۔ ان 43 میں سے چار واقعات میں شیروں نے ہلاک شدگان کے جسم کے حصے بھی کھائے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ شیر فطری طور پر آدم خور نہیں ہوتے؛ عموماً بڑھاپے، چوٹ یا قدرتی شکار کی کمی انہیں ایسے رویے کی طرف دھکیلتی ہے۔ مگر اب تصویر کچھ زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔
رپورٹ میں بنگلورو کے ممتاز کنزویشنسٹ اور ماہر حیاتیات کے الھاس کرنتھ کا حوالہ دیا گیا ہے، جن کے مطابق اس تبدیلی کی ممکنہ ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شیروں، چیتوں، تیندوؤں میں انسانوں کا خوف کم ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ آج انڈیا کی 20 ریاستوں میں جہاں شیر پائے جاتے ہیں انہی علاقوں میں اندازاً 6 کروڑ لوگ بھی بستے ہیں۔ ایک حالیہ مطالعے کے مطابق تقریباً 40 فیصد شیروں کا علاقہ انسانی آبادی کے ساتھ ملتا ہے۔ ریزروز کے اندر شیروں کی تعداد سیچوریشن کی حد تک پہنچ چکی ہے، نتیجتاً وہ محفوظ علاقوں سے باہر نکل کر انسانی بستیوں کے قریب آ رہے ہیں۔
جنگلات کی کٹائی، چراگاہوں کی تبدیلی، اور سیاحتی و ترقیاتی دباؤ، ان سب نے مل کر شیروں کے مسکن کو کم کیا ہے۔ ان کے علاقے سکڑتے جا رہے ہیں۔ جب چیتال اور سانبھر جیسے ان کے شکار کم ہوتے ہیں، تو آسان ہدف انسان یا مویشی بن سکتے ہیں۔
رپورٹ کا ایک چونکا دینے والا پہلو لانتانا کی جھاڑیوں سے جڑا ہے۔ یہ جھاڑیاں 19 ویں صدی میں سجاوٹی پودے کے طور پر انڈیا لائی گئی تھی لیکن یہ آج ملک کی سب سے جارحانہ حملہ آور اقسام میں شمار ہوتی ہے۔ اندازاً یہ پودا جنگلات، جھاڑیوں اور دیہی مشترکہ زمینوں کے 50 فیصد حصے پر قابض ہے۔
جہاں لانتانا پھیلتی ہے، وہاں مقامی گھاس اور پودے دب جاتے ہیں، اور یوں ہرن اور دوسرے جنگلی چرندے ان علاقوں سے کتراتے ہیں۔ لیکن یہی گھنی جھاڑیاں مویشیوں کے لیے چراگاہ بن جاتی ہیں۔
شیر دن کے اوقات میں ریزرو سے باہر لانتانا زدہ جھاڑیوں کو پناہ گاہ اور شکار گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی میں شعبۂ حیاتیات کے اسسٹنٹ پروفیسر نیناند مونگی جو انل اگروال ڈائیلاگ 2026 کے مقررین میں شامل تھے، کہتے ہیں کہ ’لانتانا سے بھرپور علاقے شیر کے لیے تقریباً مثالی پناہ گاہ ہیں، وہاں ان کے دور سے نظر آنے کا امکان کم ہوتا ہے، مویشیوں کے فرار کے راستے کم ہوتے ہیں اور ساتھ ہی مویشیوں کی فراوانی ہوتی ہے۔ لانتانا کی جھاڑیوں نے شکار سے خالی لینڈ سکیپ کو شکار دوست ڈھانچوں میں بدل دیا ہے۔‘
انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے بندھو گڑھ نیشنل پارک اور مہاراشٹر کے تدوبا اندھیری ٹائيگر ریزرو جیسے علاقوں میں دیکھا گیا ہے کہ شیر دن کے اوقات میں ریزرو سے باہر لانتانا زدہ جھاڑیوں کو پناہ گاہ اور شکار گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جب شیر یا چیتا کسی گائے یا بھینس کو ہلاک کرتا ہے تو مالک کو اکثر خاطر خواہ معاوضہ ملتا ہے جس سے ایک عجیب معاشی تضاد جنم لیتا ہے کیونکہ بعض علاقوں میں مویشی کا نقصان شدید ناراضی پیدا نہیں کرتا، کیونکہ وہ نقد رقم میں بدل جاتا ہے۔ شیر گویا دیہاتی معیشت کا ایک ’خاموش شراکت دار‘ یعنی اضافی مویشی کو نقدی میں تبدیل کرنے والا بن گیا ہے۔
مگر نیناد مونگی خبردار کرتے ہیں کہ یہ صورت حال شیر کے رویے کو بگاڑ سکتی ہے۔ جب شکاری جانور انسان کی فراہم کردہ ’سبسڈی‘ پر انحصار کرنے لگے، تو وہ انسان کے اور قریب آتا ہے اور یہی قربت تصادم کو جنم دیتی ہے۔
جس تصادم کا اظہار انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق انڈیا میں ’شیروں کا گہوارہ‘ کہی جانے والی ریاست مدھیہ پردیش میں پچھلے سال شیروں کی ریکارڈ تعداد میں اموات سامنے آئی ہیں اور یہ المناک رجحان 2026 میں بھی جاری رہا۔
ماہرین کا اتفاق ہے کہ مسئلے کا حل صرف گنتی بڑھانے میں نہیں، بلکہ توازن قائم کرنے میں ہے (فوٹو: اے ایف پی)
مدھیہ پردیش میں شیروں کی پچھلی مردم شماری میں 785 شیروں کی اطلاع تھی۔ اس سے سنہ 2023 میں منظر عام پر پیش کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 میں ریاست نے 55 شیروں کو کھو دیا، جو اس کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سال جنوری سے فروری میں مزید گیارہ شیروں کے مرنے کی اطلاع ہے۔
شیروں کو کس چیز نے مارا؟ 2025 میں 55 اموات میں سے، 16 شکار کیے گئے، 11 شیر مردہ پائے گئے اور بقیہ پانچ واقعات میں، شیر کی کھالیں برآمد ہوئیں۔ اس سال 11 اموات میں سے پانچ کو غیر قانونی شکار کا کیس قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کا اتفاق ہے کہ مسئلے کا حل صرف گنتی بڑھانے میں نہیں، بلکہ توازن قائم کرنے میں ہے۔ مقامی برادریوں پر مبنی تحفظی حکمتِ عملیاں، لانتانا جیسے حملہ آور پودوں کا مؤثر کنٹرول، قدرتی شکار کی بحالی، اور جنگلاتی علاقوں میں غیر ضروری انسانی مداخلت کی روک تھام جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔
شیر انڈیا کی شان اور ماحولیاتی توازن کی علامت ہے۔ اگر وہ اپنی ’دھاریوں‘ کے ساتھ اپنا مزاج بھی بدل رہا ہے، تو یہ محض جنگل کی کہانی نہیں، یہ انسان اور فطرت کے بگڑتے رشتے کا آئینہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ شیر انسان خور بن رہا ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کے مسکن کو اتنا محدود کر رہے ہیں کہ اس کے پاس کوئی اور راستہ باقی نہیں بچتا ہے؟