جرمنی مشرق وسطیٰ میں پھنسے 30 ہزار سیاحوں کے انخلاء کے لیے سرگرم
جرمن میڈیا کے مطابق تقریباً پانچ ہزار مسافر دو کروز شپس پر متحدہ عرب امارات اور قطر میں پھنسے ہوئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
جرمنی نے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث پھنسے ہوئے ہزاروں سیاحوں کے انخلا کی کوششوں کے تحت سعودی عرب اور عمان میں اپنے جہاز بھیجے گا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جرمن ٹریول ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ تقریباً 03 ہزار جرمن اس خطے میں پھنسے ہوئے ہیں۔
وزیرِ خارجہ یُوحن وادیفُل نے کہا کہ جرمنی جلد ہی سعودی عرب اور عمان میں طیارے بھیجے گا، جہاں فضائی حدود کھلی ہیں، تاکہ سب سے زیادہ کمزور سیاحوں کا انخلا شروع کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم ریاض اور مسقط کے لیے جلد از جلد طیارے بھیجیں گے، خاص طور پر کمزور گروہوں کے لیے۔ اپنے شہریوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ بحران سے نمٹنے والی ٹیمیں مسقط، دوحہ اور دبئی بھیج دی گئی ہیں تاکہ ان مقامات سے جرمن شہریوں کے ممکنہ انخلا کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے، جس میں زمینی راستہ بھی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قاہرہ میں جرمن سفارتخانے کی ایک ٹیم اسرائیل سے سرحد پار آمد و رفت میں بھی مدد کر رہی ہے۔
جرمن میڈیا کے مطابق تقریباً پانچ ہزار مسافر دو کروز شپس پر متحدہ عرب امارات اور قطر میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں بچوں کے رونے اور خوف کے عام ماحول کی اطلاعات ہیں۔
ایک خاتون سیاح، جو پیشے کے اعتبار سے پولیس افسر ہیں، نے کہا کہ ’ہمیں جہاز سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ہماری اچھی دیکھ بھال ہو رہی ہے، لیکن مجھے محفوظ محسوس نہیں ہوتا۔‘
ٹی یو آئ کروز نے اپنے بیان میں کہا کہ ’خطے کی غیر مستحکم صورتحال اور محدود پروازوں کے باعث، ہم ایئرلائنز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ واپسی کے قابلِ اعتماد منصوبے کو ممکن بنایا جا سکے۔‘
