Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کورونا ویکسینز اومی کرون کے خلاف زیادہ موثر نہیں، موڈرنا

موڈرنا کے سی ای او کا بیان عالمی منڈی پر اثر انداز ہوتا نظر آیا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
دوا ساز کمپنی موڈرنا کے چیف نے یہ کہہ کر عالمی منڈی میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں ہیں کہ کورونا وائرس کی ویکسیز ممکنہ طور پر اومی کرون ویریئنٹ کے خلاف موثر نہیں ہوں گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق موڈرنا کے سی ای او سٹیفین بنسل نے فنانشل ٹائمز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ کورونا وائرس کی موجودہ ویکسینز جنتی ڈیلٹا ویرینٹ کے لیے موثر تھیں اتنی وائرس کی نئی قسم کے لیے ہونے کا امکان نہیں ہے۔
ان کا یہ بیان عالمی منڈی میں خام تیل، ڈالر (آسٹریلوی کرنسی) اور جاپان کی سٹاک ایکسچینج پر اثر انداز ہوتا نظر آیا۔ جبکہ بیان نے اس خوف کو بھی جنم دے دیا کہ ویکسین کے غیر موثر ہونے سے بیماری کے پھیلاؤ اور ہسپتالوں میں لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور وبا کو مزید طول مل سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں مزید بات کرنے کے لیے سب سے پہلے اعداد و شمار کی طرف نظر ڈالتا ضروری ہے۔
’تاہم وہ تمام سائنسدان جن سے میں نے بات کی ہے کہہ رہے ہیں کہ یہ اچھا نہیں ہوگا۔‘
واضح رہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے بارے میں عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس سے انفیکشین کے بڑھنے کا ’بہت زیادہ خطرہ‘ ہے۔
اس وائرس کی وجہ سے ایک بار پھر سرحدیں بند ہونا شروع ہوگئی ہیں اور دو سال بعد ہونے والی اقتصادی بحالی پر کالے بادل چھا گئے ہیں۔
وائرس کی نئی قسم کی خبر سے عالمی سٹاکس کی قدر سے تقریباً دو ٹریلین ڈالر کم ہوگئی، جبکہ سرمایہ کاروں کو اومی کرون کے بارے میں مزید معلومات کا انتظار رہا۔

جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ پھر سے لاک ڈاؤن نافذ نہیں کریں گے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

جو بائیڈین کا لاک ڈاؤن نہ نافذ کرنے کا بیان مارکیٹس میں ٹھہراؤ لایا تھا۔ تاہم موڈرنا کے چیف کے کمنٹس نے سرمایہ کاروں میں خدشات کی لہر دوڑا دی ہے۔
امریکہ سمیت دیگر ممالک میں حکام نے ویکسینیشن میں تیزی برتنے اور بوسٹر خوراکوں کے احکامات جاری کیے ہیں۔   
اومیکرون کے سامنے آتے ہی جن ممالک نے سفری پابندیاں عائد کی ہیں ان میں ہانگ کانگ شامل ہے جس نے کئی ممالک سے غیر ملکیوں کو آنے سے روک دیا ہے۔
ان میں انگولا، اتھوپیا، نائجریا اور زیمبیا شامل ہیں۔
اومی کرون ویریئنٹ کا پہلا کیس 24 نومبر کو رپورٹ ہوا تھا اور یہ اب تک 12 سے زائد ممالک تک پھیل گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے زور دیا ہے کہ ممالک ’بین الاقوامی سفری اقدامات ایڈجسٹ کرنے کے لیے خطرے پر مبنی نقطہ نظر‘ اپنائیں۔
تاہم عالمی پابندیوں نے ویکسین کی تقسیم میں عدم مساوات کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔

شیئر: